لاہور: سابق نگراں وفاقی وزیر تجارت گوہر اعجاز نے یورپی یونین اور بھارت کے تجارتی معاہدے پر کہا ہےکہ یہ معاہدہ پاکستان کی صنعتوں کے لیے بڑا خطرہ ہے، تجارتی معاہدے سے پاکستان کی 9 ارب ڈالرز کی ٹیکسٹائل ایکسپورٹس متاثر ہوسکتی ہیں۔
ایک بیان میں گوہر اعجاز کا کہنا تھا کہ اس معاہدے سے ایک کروڑ افراد کا روزگار متاثر ہوسکتا ہے، یورپی یونین کی جانب سے پاکستان کو ملنے والا ہنی مون پیریڈ ختم ہوگیا، پاکستان سمیت تمام علاقائی ممالک پر اب زیرو ٹیرف کا اطلاق ہوگا، اس سے قبل صرف پاکستان کے لیے یورپی یونین نے زیرو ٹیرف فراہم کیا ہوا تھا۔
گوہر اعجاز کا کہنا تھا کہ حکومت کو ملکی ٹیکسٹائل انڈسٹری بچانے کے لیے آج ہی فیصلہ کرنا ہوگا، ٹیکسٹائل انڈسٹری کو علاقائی نرخوں پر بجلی و گیس کی فراہمی یقینی بنانا ہوگی۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ صنعتوں پر ٹیکسز کی شرح علاقائی ممالک کے برابرکی جائے، صنعتوں کی کاروباری لاگت کو ہمسایہ ممالک کے برابر کیا جائے، ملکی صنعتیں سسٹم کی نااہلی کا مزید بوجھ برداشت نہیں کرسکتیں۔
بھارت اور یورپی یونین نے ’مدر آف آل ڈیلز‘ پر اتفاق کرلیا
خیال رہےکہ بھارت اور یورپی یونین نے ایک بڑے تجارتی معاہدے پر اتفاق کرلیا ہےجسے فریقین نے ’مدر آف آل ڈیلز‘ قرار دیا ہے۔
یورپی یونین کے مطابق اس معاہدے کے تحت یورپی برآمدات کے تقریباً 97 فیصد پر ٹیرف کم یا ختم کر دیے جائیں گے جس سے سالانہ 4 ارب یورو تک ڈیوٹی کی بچت ہو سکےگی۔
یورپی حکام کے مطابق یہ اب تک بھارت کا سب سے جامع اور وسیع تجارتی معاہدہ ہے جس سے یورپ کے زرعی، آٹو موبائل اور خدمات کے اہم شعبوں کو فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔
غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق معاہدے میں سکیورٹی شراکت داری بھی شامل ہے جس سے دفاعی کمپنیوں کے لیے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
نریندر مودی کے مطابق اس معاہدے سے بھارت کے ٹیکسٹائل، قیمتی پتھروں اور زیورات، چمڑے کی مصنوعات اور خدمات کے شعبے کو بھی فروغ ملےگا۔


























Leave a Reply