اگر آپ رات گئے تک جاگنا پسند کرتے ہیں تو یہ عادت دل کی صحت کے لیے تباہ کن ثابت ہوتی ہے۔
یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔
ہارورڈ میڈیکل اسکول کی تحقیق میں بتایا گیا کہ درمیانی عمر یا ایسے معمر افراد جو رات گئے تک جاگنا پسند کرتے ہیں، ان کی دل کی شریانوں کی صحت رات کو جلدی سونے اور صبح جلد جاگنے والوں کے مقابلے میں زیادہ ناقص ہوتی ہے۔
مردوں کے مقابلے میں یہ اثر خواتین میں زیادہ نمایاں ہوتا ہے۔
اس تحقیق میں 3 لاکھ سے زائد افراد کے طبی ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا جن کی اوسط عمر 57 سال تھی اور وہ ماضی میں یوکے بائیوبینک کی ایسی تحقیق کا حصہ بن چکے تھے جن میں ان کے سونے جاگنے کے معمولات کا تجزیہ کیا گیا تھا۔
8 فیصد افراد نے بتایا کہ وہ رات گئے تک جاگنے والے گروپ میں شامل ہیں اور عام طور پر شام کے وقت زیادہ متحرک ہوتے ہیں۔
24 فیصد افراد نے خود کو صبح جلد جاگنے والا قرار دیا جبکہ باقی 67 فیصد دونوں کے درمیان تھے، یعنی نہ تو وہ صبح جلد جاگنے کے عادی تھے اور نہ رات کو بہت دیر سے سوتے تھے۔
ان افراد کی دل کی صحت کا تجزیہ کیا گیا اور اس کے لیے صحت بخش غذا، جسمانی سرگرمیوں، تمباکو نوشی سے دوری، اچھی نیند اور دیگر عناصر کو مدنظر رکھا گیا۔
تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ رات گئے تک جاگنے والے افراد میں دل کی شریانوں کی صحت دیگر گروپس کے مقابلے میں 79 فیصد زیادہ ناقص ہوتی ہے۔
تحقیق کے مطابق ایسے افراد میں آئندہ 14 برسوں میں ہارٹ اٹیک یا فالج کا خطرہ 16 فیصد زیادہ ہوتا ہے۔
مردوں کے مقابلے میں رات گئے تک جاگنے والی خواتین کی دل کی صحت زیادہ ناقص ہوتی ہے۔
تحقیق میں مزید بتایا گیا کہ رات گئے تک جاگنے والے افراد میں امراض قلب کا خطرہ ممکنہ طور پر ناقص غذائی عادات، ناکافی نیند اور تمباکو نوشی کے باعث بڑھتا ہے۔
اس کے مقابلے میں صبح جلد جاگنے والے افراد میں امراض قلب کا خطرہ 5 فیصد تک کم ہوتا ہے۔
محققین نے بتایا کہ رات گئے تک جاگنے کے عادی افراد کو دل کے مسائل کا سامنا زیادہ ہوتا ہے، یعنی ان کی اندرونی جسمانی گھڑی قدرتی دن رات کے سائیکل سے مطابقت پیدا نہیں کرپاتی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ایسے افراد کے معمولات بھی ایسے ہوتے ہیں جو دل کی صحت کو متاثر کرتے ہیں، جیسے ناقص غذا کا استعمال، تمباکو نوشی اور ناکافی نیند وغیرہ۔
البتہ ان کا کہنا تھا کہ اگر رات گئے تک جاگنے والے افراد اپنے رویوں جیسے تمباکو نوشی اور ناکافی نیند کو تبدیل کر دیں تو ان کی دل کی صحت کو لاحق خطرات گھٹ سکتے ہیں۔
اس تحقیق کے نتائج جرنل آف دی امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن میں شائع ہوئے۔


























Leave a Reply