چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیراحمد کا کہنا ہےکہ کراچی کےکاروباری طبقےکا بڑا حوصلہ ہے، ناانصافیوں کے بعد بھی ڈٹا ہوا ہے،کراچی کے ذریعے پاکستان کے سارے قرض اتارسکتے ہیں۔
کراچی میں کاروباری طبقے سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیراحمد کا کہنا تھا کہ کاروباری طبقے کی پریشانیوں اورچیلنجز کا ادراک ہے،کاروباری اعتماد بہت اچھا نہیں ہے، ٹیکسوں کے مسائل ہیں، سکیورٹی بہت آئیڈیل نہیں ہے، یہ معاملات میرے نہیں ہیں لیکن یہ اعتماد پر اثرانداز ہوتے ہیں۔
چیئرمین نیب کا کہنا تھا کہ اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ آپ کے معاملات حل کرائیں گے، تمام منفی چیزوں کے باوجود کچھ بہت اچھی چیزیں ہو رہی ہیں، 25 کروڑ آبادی میں 65 فیصد نوجوان ہیں، پاکستان خوراک پیدا کرنے والا امیر ملک ہے، زراعت ہماری ضرورت پوری کرلیتا ہے، ایندھن اور کھانےکا تیل منگوانا پڑتا ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیراحمد کا کہنا تھا کہ مئی کے بعد پاکستان کی دنیا میں نئی شناخت سامنے آئی ہے، قرضوں کی وجہ سے پوری دنیا میں برے حالات ہیں، دنیا ڈالر سے دوسری کرنسیوں پر منتقل ہو رہی ہے، اگلے دو سال بہت اہم ہیں، ہمارے لیے مواقع بڑھیں گے، حکومت کا ظرف ہے کہ آئی ایم ایف سے مذکرات کی مشکل بتاتی نہیں، آئی ایم ایف سے نکلنے کا قومی ایجنڈا ہونا چاہیے۔
چیئرمین نیب نے کہا کہ کاروباری طبقے کی مشاورت سے کام کریں گے، وسائل ہم مہیا کریں گے، کراچی کا نیا چہرہ ہوگا،کراچی کے ذریعے پاکستان کے سارے قرض اتار سکتے ہیں، وسط اپریل اور مئی تک آپ کے ریزرو 40 سے 48 ارب ڈالر ہوں گے، بہت سے نئے آئیڈیاز پر کام کر رہے ہیں، لوگوں کو نوکریوں سےنہ نکالیں بہت کچھ آنے والا ہے، معیشت کا پہیہ چلےگا تو سارے مسائل حل ہوں گے،کاروباری طبقے کو سہولیات دیں۔
انہوں نے بتایا کہ نیب نے تین سال میں 12.4 ٹریلن کی ریکوری کی ہے، تین مہینوں میں 11 ہزار ارب زمزید جمع کروں گا، اس شہر کے ساتھ بہت بڑی دھوکے بازی ہوئی ہے، بنگلادیش بھائی سے بھائی کی سازش سے الگ ہوئے، سازش ناکام ہوئی اور بھائی کے ساتھ بھائی مل گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سندھ کی زمینوں کا ریکارڈ ڈیجٹلائز ہوگا، ہم نے 1500 ارب کی زمینیں واہگزار کرائیں ہیں، چند روز میں اس کی تفصیلات سامنے آجائیں گی۔


























Leave a Reply