لاہور میں 6 سے 8 فروری تک شیڈول بسنت کے تہوار سے قبل، پنجاب کے محکمہ اسکول ایجوکیشن کی جانب سے مبینہ طور پر جاری کردہ ایک پبلک نوٹس آن لائن گردش کرنے لگا۔ اس نوٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ محکمہ نے بسنت کے جشن کے سلسلے میں یکم فروری سے 10 فروری تک تمام سرکاری اور نجی اسکولوں میں 10 روزہ چھٹیوں کا اعلان کر دیا ہے۔
اس دستاویز میں مزید یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ اسکولوں کی چھتیں تہوار سے متعلقہ سرگرمیوں کے لیے لیز (کرایہ) پر دی جا سکتی ہیں۔
یہ نوٹیفکیشن مکمل طور پر من گھڑت ہے۔
دعویٰ
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے 26 جنوری کے ایک مبینہ نوٹیفکیشن میں دیکھا جا سکتا ہے کہ حکومتِ پنجاب نے بسنت کے تہوار کے باعث یکم فروری سے 10 فروری 2026 تک صوبے بھر کے تمام سرکاری اور نجی اسکولوں کو بند کرنے کا حکم دیا ہے۔
دستاویز میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ اسکولوں کی چھتیں بسنت کے جشن کے لیے لیز یا نیلام کی جا سکتی ہیں اور ضلعی تعلیمی حکام کو اس پر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اس نوٹیفکیشن پر محکمہ اسکول ایجوکیشن کے سیکرٹری مدثر ریاض ملک کے دستخط موجود ہیں۔
حقیقت
حکام نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ صوبائی حکومت کی جانب سے ایسا کوئی نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا گیا، جبکہ ایک آزادانہ تجزیے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ دستاویز خود ساختہ ہے۔
محکمہ اسکول ایجوکیشن کے سیکرٹری مدثر ریاض ملک، جن کا نام اس وائرل دستاویز پر درج ہے، نے جیو فیکٹ چیک کو ٹیلی فون پر بتایا کہ ان کے محکمے کی جانب سے یکم فروری سے 10 فروری تک اسکول بند کرنے کے حوالے سے ایسی کوئی ہدایات جاری نہیں کی گئی ہیں۔
پنجاب کے وزیرِ تعلیم رانا سکندر حیات نے بھی جیو فیکٹ چیک سے ٹیلیفون پر بات کرتے ہوئے تصدیق کی کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والا یہ نوٹس مکمل طور پر جعلی ہے۔
رانا سکندر حیات نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کو دو ٹوک انداز میں مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ بسنت کے سلسلے میں صوبے بھر کے اسکولوں میں چھٹیوں کا کوئی امکان نہیں ہے اور پنجاب کے تمام اسکول معمول کے مطابق کھلے رہیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ چونکہ بسنت کی سرگرمیاں ہفتہ اور اتوار کے روز آ رہی ہیں، جو کہ پہلے ہی معمول کی چھٹیاں ہوتی ہیں، اس لیے اسکولوں کو اضافی طور پر بند کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
وزیرِ تعلیم پنجاب کےپبلک ریلیشنز آفیسر (PRO) نور الہدیٰ نے بھی جیو فیکٹ چیک کو ٹیلی فون پر بتایا کہ یہ نوٹیفکیشن جعلی ہے۔
نور الہدیٰ نے مزید وضاحت کی کہ 6 یا 7 فروری کو بسنت کے حوالے سے اگر کسی چھٹی کا اعلان کیا گیا، تو وہ صرف ایک مقامی تعطیل (local holiday) ہوگی جس کا فیصلہ مکمل طور پر متعلقہ ڈپٹی کمشنر کا اختیار ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایسی چھٹی کا کوئی بھی نوٹیفکیشن ڈپٹی کمشنر آفس کی جانب سے جاری کیا جائے گا نا کہ محکمہ اسکول ایجوکیشن کی طرف سے۔
آرٹیفیشل انٹیلیجنس پر مبنی مواد کی جانچ کرنے اور ڈیجیٹل فارنزک کے لیے استعمال ہونے والے ٹول ایٹیسٹیو (Attestiv) نے اس دستاویز کو 93 کاٹیمپر اسکور (Tamper Score) دیا ہے، جو اس بات کی واضح نشاندہی ہے کہ یہ نوٹیفکیشن مصنوعی ذہانت (AI) کے ٹولز استعمال کر کے تیار کیا گیا ہے۔
ایٹیسٹیو (Attestiv) نے آن لائن نوٹیفکیشن کو 93 کا ٹیمپر اسکور دیا۔
فیصلہ: حکومتِ پنجاب کے حکام نے تصدیق کی ہے کہ بسنت کے موقع پر صوبے بھر میں اسکولوں کی تعطیلات کے حوالے سے کوئی احکامات جاری نہیں کیے گئے۔ کسی بھی مقامی چھٹی کا اعلان، اگر کیا گیا، تو وہ متعلقہ ڈپٹی کمشنر کی جانب سے نوٹیفائی کیا جائے گا نہ کہ محکمہ اسکول ایجوکیشن کی طرف سے۔
ہمیں X (ٹوئٹر) GeoFactCheck@ اور انسٹا گرام geo_factcheck@ پر فالو کریں۔ اگر آپ کو کسی بھی قسم کی غلطی کا پتہ چلے تو [email protected] پر ہم سے رابطہ کریں۔


























Leave a Reply