امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان کا کہنا ہے ہر سانحے کے بعد پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم کے درمیان نورا کشتی شروع ہو جاتی ہے۔
کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا جسے عوام منتخب کریں اس کا میئر ہونا چاہیے، قبضہ میئر نہیں ہونا چاہیے، گل پلازہ کے سانحہ کے بعد یہاں کے لوگوں میں بے بسی کی کیفیت ہے، کراچی میں ملک سے مایوسی کی کیفیت پیدا کی جا رہی ہے، ہر سانحہ کے بعد پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم کے درمیان نورا کشتی شروع ہوجاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ گل پلازہ میں لگی آگ بجھانے کا کوئی انتظام نہیں تھا، فائر فائٹرز کے پاس آگ سے بچنے کا لباس ہے اور نا ہی ماکس موجود ہیں، کسی بھی فائر فائٹر کے پاس وہ کٹ نہیں جس کو پہن کر وہ فائر فائٹنگ کریں۔
امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا شہر میں بارش ہو جائےتو یہ پانی نکال نہیں سکتے، آگ لگ جائے توبجھا نہیں سکتے، گرین لائن 10 سال بعد بھی مکمل نہیں ہوئی، نا اہل اور کرپٹ لوگ ہمارے اوپر مسلط ہیں، ان کی کک بیکس اور کرپشن بڑھتی رہتی ہے۔
حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا گرین لائن پروجیکٹ 2016 میں شروع ہوا اور آج تک مکمل نہیں ہوا، ریڈ لائن کو 2024 میں پورا ہونا تھا جو ابھی تک پورا نہیں ہوا، ریڈ لائن منصوبہ کے لیے بنی ہوئی سڑک کو توڑ دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ وفاق میں سب مل کر حکومت کر رہے ہیں، شہر کا بیڑا غرق کر رہے ہیں، شہرمیں پورشن کا دھندہ چل رہا ہے، یہ کون سے نعمت اللہ اور عبدالستار افغانی کے دور کا ہے، کراچی کے مسئلے کا حل نہ صوبائی کنٹرول ہے نہ ہی وفاقی کنٹرول، کراچی کے مسئلے کا حل کراچی سٹی گورنمنٹ ہے۔


























Leave a Reply