مچھلی کے تیل (یا اومیگا 3 فیٹی ایسڈز) کے کیپسولز کا استعمال متعدد افراد کرتے ہیں اور اس کا مقصد عموماً دل کی صحت کو بہتر بنانا ہوتا ہے۔
مگر یہ سپلیمنٹ حیاتیاتی عمر کی رفتار کو سست کرنے میں بھی مدد فراہم کرتا ہے۔
یہ بات کچھ عرصے قبل ایک تحقیق میں سامنے آئی تھی۔
خیال رہے کہ ویسے تو ہر فرد کی عمر کا تعین تاریخ پیدائش (کرانیکل ایج) سے کیا جاتا ہے مگر طبی لحاظ سے ایک حیاتیاتی عمر (بائیولوجیکل ایج) بھی ہوتی ہے جو جسمانی اور ذہنی افعال کی عمر کے مطابق ہوتی ہے۔
جینز، طرز زندگی اور دیگر عناصر اس حیاتیاتی عمر پر اثرات مرتب کرتے ہیں اور یہ عمر جتنی زیادہ ہوگی مختلف امراض کا خطرہ بھی اتنا زیادہ بڑھ جائے گا۔
اس تحقیق میں بتایا گیا کہ اگر مچھلی کے تیل کے ساتھ وٹامن ڈی سپلیمنٹس کے استعمال اور ورزش کو بھی معمول بنایا جائے تو حیاتیاتی عمر کی رفتار کو نمایاں حد تک سست کرنے میں مدد ملتی ہے۔
جرنل نیچر ایجنگ میں شائع تحقیق میں 70 سال یا اس سے زائد عمر کے 777 افراد کو شامل کیا گیا تھا۔
ان افراد کی حیاتیاتی عمر کا تعین ایپی جینیٹک کلاکس سے کیا گیا۔
یہ ٹولز خلیاتی سطح پر کسی فرد کی عمر کا تجزیہ کرنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔
تحقیق میں شامل افراد کو مختلف گروپس میں تقسیم کیا گیا جن میں روزانہ وٹامن ڈی سپلیمنٹس اور مچھلی کے تیل کے کیپسولز استعمال کرنے والے ایسے افراد کا گروپ بھی شامل تھا جو ہر ہفتے 3 بار 30 منٹ تک ورزش کرتے تھے۔
3 سال بعد ان افراد کے خون کے نمونوں سے دریافت ہوا کہ صرف مچھلی کے تیل کے کیپسولز استعمال کرنے والے افراد کی حیاتیاتی عمر میں 2 سال 8 مہینے کا اضافہ ہوا، جس سے عندیہ ملا کہ یہ سپلیمنٹ حیاتیاتی عمر کی رفتار سست کر سکتا ہے۔
اسی طرح ان کیسپولز کے ساتھ وٹامن ڈی اور ورزش کو معمول بنانے والے افراد کی حیاتیاتی عمر کی رفتار نمایاں حد تک کم ہوگئی۔
ان تینوں عادات کو اپنانے سے مختلف امراض، کینسر اور جسمانی کمزوری کا خطرہ بھی گھٹ جاتا ہے۔
ماہرین نے بتایا کہ مچھلی کے تیل کے کیپسولز سے حیاتیاتی عمر کی رفتار میں کمی ممکنہ طور پر اس لیے آتی ہے کیونکہ جسمانی ورم گھٹ جاتا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ورم سے حیاتیاتی عمر کی رفتار میں اضافہ ہوتا ہے جبکہ ورم کو کم کرنے سے خلیاتی صحت بہتر ہوتی ہے۔
البتہ محققین کا کہنا تھا کہ نتائج کی تصدیق کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ مکمل تصویر سامنے آسکے۔
انہوں نے کہا کہ اگر آپ ابھی ان سپلیمنٹس کا استعمال نہیں کر رہے تو پہلے ڈاکٹر سے مشورہ کریں اور پھر ان کا استعمال معمول بنائیں۔

























Leave a Reply