اگر آپ خود کو گردوں کے تکلیف دہ دائمی امراض سے محفوظ رکھنا چاہتے ہیں؟ تو یہ بہت آسان ہے اور اس کا راز آپ کے کچن میں چھپا ہوا ہے۔
کینیڈین میڈیکل ایسوسی ایشن جرنل میں شائع تحقیق میں بتایا گیا کہ پھلوں سبزیوں پر مشتمل غذاؤں کا زیادہ استعمال جبکہ چینی اور چکنائی کا کم استعمال گردوں کے دائمی امراض سے متاثر ہونے کا خطرہ کم کرتا ہے۔
ایک تخمینے کے مطابق دنیا بھر میں ہر 10 میں سے ایک فرد کو گردوں کے دائمی امراض کا سامنا ہوتا ہے جس کے نتیجے میں سیال اور دیگر مواد جسم میں اکٹھا ہونے لگتا ہے۔
گردے ہمارے جسم میں کسی واٹر فلٹر کی طرح کام کرتے ہیں۔
واٹر فلٹر ان چیزوں کو پانی سے خارج کرتا ہے جو ہمارے جسم کے لیے نقصان دہ ہوتی ہیں اور ہمارے گردے بھی یہی کام کرتے ہیں۔
گردے خون کو فلٹر کرتے ہیں جس کے دوران زہریلے مواد اور اضافی سیال کو جسم سے خارج کرتے ہیں جبکہ پوٹاشیم، سوڈیم اور دیگر اجزا کی سطح کو متوازن رکھتے ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ گردے ایسے ہارمونز بھی بناتے ہیں جو بلڈ پریشر سے لے کر ہڈیوں کی مضبوطی کے حوالے سے اہم کردار ادا کرتے ہیں، آسان الفاظ میں گردے بہت اہم ہوتے ہیں۔
اس نئی تحقیق میں 49 سے 69 سال کی عمر کے ایک لاکھ 79 ہزار سے زائد افراد کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا۔
ان افراد سے سوالنامے کے ذریعے غذائی عادات کی تفصیلات کو اکٹھا کیا گیا اور پھر ان کی صحت کا جائزہ 12 سال تک لیا گیا۔
اس عرصے میں 4819 افراد میں گردوں کے دائمی امراض کی تشخیص ہوئی۔
تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ پھلوں، سبزیوں اور گریوں پر مشتمل غذا کے زیادہ استعمال جبکہ سرخ گوشت، چینی اور چکنائی کے کم استعمال سے گردوں کے امراض کا خطرہ کم ہوتا ہے۔
تحقیق میں بتایا گیا کہ زیادہ چینی اور چکنائی کے استعمال سے جسم میں ورم اور تکسیدی تناؤ بڑھتا ہے جس سے گردوں کی صحت متاثر ہوتی ہے۔

























Leave a Reply