لاہور میں ایک ہفتے کے دوران کم سن بچے پر شیرکے حملے کا دوسرا واقعہ پیش آیا ہے۔
پولیس کےمطابق سبزہ زار کے علاقے میں عمر اقبال اور علی اقبال نامی افرادنے اپنےفارم ہاؤس پر پالتو شیر رکھا ہوا تھا، 8 سالہ واجد علی کھیلتے ہوئے شیرکے پنجرےکےقریب چلاگیا، شیر نے حملہ کرکے اس کا بازو بری طرح زخمی کر دیا، اطلاع ملنے پر پولیس پہنچ گئی، بچےکو گنگا رام اسپتال منتقل کیا گیا۔
گنگا رام اسپتال کے ترجمان کے مطابق بچےکا بازو بری طرح زخمی تھا، ڈاکٹروں کو بچےکی جان بچانےکے لیے اس کا بازو کاٹنا پڑا جس کےبعد اس کی حالت پہلے سے بہتر ہے۔
پولیس نے فارم ہاؤس کے مالکان عمر اقبال اور علی اقبال کو گرفتار کرلیا۔ پولیس کا کہنا ہےکہ بچے پر حملےکا واقعہ شیروں کا پنجرہ غیر محفوظ ہونے اور شیر مالکان کی غفلت کےباعث پیش آیا، شیر مالکان کے پاس شیر پالنے کا لائسنس بھی نہيں تھا۔
کچھ روز قبل بھی اسی قسم کا واقعہ پیش آیا تھا جب شیرنی کو ایک گاڑی سے دوسری گاڑی میں منتقل کیا جارہا تھا تو اس نے 8 سالہ بچی پر حملہ کرکے اسے زخمی کر دیا تھا ۔
اسی واقع کی تفتیش کے دوران لاہور پولیس نے پالتو شیرنی کے بچی پر حملے کے واقعے کے بعدغیر قانونی طور پر رکھے گئے مزید 11 شیر بازیاب کرلیے تھے جن میں 5 شیرنیاں، 3 شیر اور 3 شیر کے بچے شامل تھے۔


























Leave a Reply