امریکی ریاست ٹیکساس کی اسمبلی کے رکن ڈاکٹر سلیمان لالانی نے کہا ہے کہ وسط مدتی (مڈٹرم) الیکشن میں ٹرمپ افیکٹ کا ڈیموکریٹس کوفائدہ ہوگا۔
ڈاکٹرسلیمان لالانی نے یہ بات جیونیوز کو انٹرویو میں کہی۔ ان کا دعوی تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اقدامات سے امریکی شہریوں کی اکثریت بے زار ہو رہی ہے۔
ڈاکٹرسلیمان لالانی امریکی ریاست ٹیکساس کے ڈسٹرکٹ 76 سے رکن اسمبلی ہیں۔ ان کے عہدے کی مدت 12 جنوری 2027 کو ختم ہوگی۔
امریکن پاکستانی ڈاکٹر، وکیل اور سیاستدان ڈاکٹر لالانی تیسری بار ریاستی اسمبلی کا الیکشن لڑرہےہیں۔ اس بار بھی وہ اسی حلقے کی نمایندگی کے خواہاں ہیں ۔ انکی ڈیموکریٹک پرائمری اس سال 3 مارچ کو ہوگی۔
ڈاکٹر لالانی نے کہا کہ امیگریشن ہو،بارڈرسیکیورٹی یا معیشت ہرجگہ ری پبلکنز کا گراف نیچے آرہا ہے۔
ڈیموکریٹک رہ نما کے مطابق امیگرینٹ کمیونٹی امریکی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ سے متعلق ادارے جسے مختصرا آئس بھی کہا جاتا ہے، اُس سے بہت تنگ ہے۔
ڈاکٹر لالانی نے کہا کہ دنیا کے مختلف ممالک پر عائد کیا گیا ٹیرف ہو، وینزویلا کے خلاف کارروائی یا دیگر ملکوں سےمتعلق اقدامات یہ سب امریکیوں کی توجہ مبزول کرنے کی کوشش ہے۔
ری پبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چند ہفتے پہلے ہی اپنی پارٹی کے امیدواروں اور دیگر رہ نماوں پر زور دیا تھا کہ وہ متحد ہوں اور اچھے کاموں سے عوام کو آگاہ کریں ورنہ روایت ہے کہ اگر صدر ری پبلکن پارٹی سے ہو تو مڈٹرم الیکشن ڈیموکریٹس جیتتے ہیں۔
صدرٹرمپ نے ساتھ ہی یہ بھی خطرہ ظاہر کیا تھا کہ اگر مڈٹرم الیکشنز میں ڈیموکریٹس جیتے تو وہ صدر کا مواخذہ کرنے کی کوشش کریں گے۔
ڈیموکریٹک رہ نما ڈاکٹر لالانی کا دعویٰ تھا کہ حقیقت یہ ہے کہ ری پبلکنزکواحساس ہوگیا ہےکہ وہ آزادانہ طورپر مڈٹرم الیکشن نہیں جیت سکتے۔
نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے متعلق ڈاکٹر لالانی نے کہا کہ ڈیموکریٹس نےہدف پرتوجہ رکھی اورٹرن آوٹ اچھا ہوا تو ڈیموکریٹک امیدواروں کی کامیابی کے واضح امکانات ہیں۔
ڈاکٹر لالانی مختصر دورے پر اپنے شہر کراچی آئے ہیں جہاں انہوں نے مقامی یونیورسٹی میں لیکچر دیا اور اس بات پر زور دیا کہ طلبہ کو پبلک پالیسی اور سیاسی انگیجمنٹ کی آگاہی دی جانی چاہیے۔
ڈاکٹر لالانی کا کہنا تھا کہ باہر رہ کر تنقید کرنے سے نظام نہیں بدلتا۔ نوجوان نسل اگر معاشرے کو سدھارنا چاہتی ہے تو اسے خود کردار ادا کرنا ہوگا لیکن اس سے پہلے اسے اپنے حقوق کی آگاہی ہونی چاہیے۔


























Leave a Reply