سائنسدانوں نے برفانی براعظم انٹارکٹیکا کی برفانی تہہ کے نیچے چھپی ایک ‘خفیہ دنیا’ تلاش کرلی ہے۔
جی ہاں واقعی سائنسدانوں نے انٹار کٹیکا کی موٹی برفانی تہہ کے نیچے موجود اسرار پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ وہاں کیا چھپا ہوا ہے۔
انہوں نے انٹار کٹیکا کی برفانی تہہ کے نیچے موجود حصے کا تفصیلی نقشہ تیار کیا ہے۔
یہ برفانی تہہ 14 کلومیٹر موٹی ہے اور اس کے نیچے موجود خطے کے بارے میں سائنسدانوں کو مریخ یا زہرہ جیسے سیاروں کی سطح سے بھی کم تفصیلات کا علم ہے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ برف کے باعث نیچے موجود سطح کا مشاہدہ کرنا مشکل ہے۔
اب سیٹلائیٹ ڈیٹا اور میپنگ تکنیکس کے ذریعے اب تک کا سب سے تفصیلی نقشہ تیار کیا گیا ہے۔
اس نقشے میں ہزاروں پہاڑیوں، وادیوں، پہاڑی سلسلوں اور گہری کھائیوں کی موجودگی کا انکشاف کیا گیا۔
ماہرین کے مطابق ان تفصیلات سے انٹار کٹیکا کی برفانی سطح کے رویے کے بارے میں جاننے میں مدد ملے گی جو کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث پگھل رہی ہے۔
ایڈنبرگ یونویرسٹی کے اسکول آف جیو سائنسز کے ماہرین نے اس تحقیق پر کام کیا۔
انہوں نے بتایا کہ لاکھوں برسوں سے انٹار کٹیکا کی برفانی تہہ ایسے خطے کے اوپر جم گئی جو سپاٹ سطح، پہاڑی سلسلوں اور دیگر جغرافیائی خصوصیات سے لیس ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اس تکنیک کے ذریعے ہم پہلی بار اس برفانی براعظم کے چھپے ہوئے جغرافیے کے بارے میں جاننے میں کامیاب ہوئے۔
اس تحقیق کے لیے انہوں نے آئس فلو پرٹربیشن اینالائسز نامی میپنگ تکنیک کا استعمال کیا اور اس کو سیٹلائیٹ ڈیٹا سے ملا دیا گیا۔
محققین کے مطابق اس نئے طریقہ کار سے انہیں انٹار کٹیکا کے چھپے رازوں کے بارے میں جاننے میں مدد ملی۔
اس تحقیق کے نتائج جرنل سائنس میں شائع ہوئے۔


























Leave a Reply