ہینلے پاسپورٹ انڈیکس کی جانب سے 2026 کے لیے دنیا کے پاسپورٹس کی درجہ بندی جاری ہونے کے بعد پاکستان کے وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے دعویٰ کیا کہ پاکستانی پاسپورٹ کی رینکنگ میں بہتری آئی ہے اور انہوں نے اسے ایک ”شاندار کامیابی“ قرار دیا۔
یہ دعویٰ غلط ہے۔
15 جنوری کو وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے اپنے آفیشل ایکس (سابقہ ٹوئٹر) اکاؤنٹ پر لکھا: ”پاکستانی پاسپورٹ کی درجہ بندی کا 126 ویں سے 98 ویں نمبر پر آنا ایک شاندار کامیابی ہے اور یہ تسلسل برقرار رہے گا۔“
ان کی اس پوسٹ کے ساتھ متحدہ عرب امارات (UAE) کے انگریزی اخبار ’گلف نیوز‘ کی ایک خبر بھی منسلک تھی، جس میں بتایا گیا تھا کہ ہینلے پاسپورٹ انڈیکس 2026 میں پاکستان کا پاسپورٹ 2025 کے 100ویں درجے سے بہتر ہو کر 98ویں نمبر پر آ گیا ہے۔ رپورٹ میں اس تبدیلی کی وجہ ”بڑھتی ہوئی سفارتی کوششوں اور حالیہ بین الاقوامی معاہدوں“ کو قرار دیا گیا، جن کے بارے میں کہا گیا کہ یہ ”بتدریج پاکستانی شہریوں کے لیے سفری آزادی میں اضافہ کر رہے ہیں۔“
متعدد پاکستانی میڈیا اداروں نے بھی اس دعوے کی بنیاد پر پاکستانی پاسپورٹ کی درجہ بندی میں بہتری کی خبریں نشر کیں۔
یہ دعویٰ 9 جنوری کو جاری کردہ ہینلے پاسپورٹ انڈیکس کے نتائج کی غلط ترجمانی کرتا ہے۔ پاکستانی پاسپورٹ کی قدر میں کوئی بہتری نہیں آئی۔ درحقیقت، ان ممالک یا مقامات کی تعداد جہاں پاکستانی پاسپورٹ ہولڈرز بغیر ویزہ کے جا سکتے ہیں، 2025 میں 33 سے کم ہو کر 2026 میں 31 رہ گئی ہے۔
ہینلے پاسپورٹ انڈیکس لندن میں قائم امیگریشن کنسلٹنسی ہینلے اینڈ پارٹنرز (Henley & Partners) مرتب کرتی ہے۔ یہ انڈیکس سالانہ بنیادوں پر پاسپورٹس کی درجہ بندی اس بنیاد پر کرتا ہے کہ ان کے حامل افراد پیشگی ویزہ حاصل کیے بغیر کتنے مقامات یا ممالک تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
2025 کے اختتام پر، پاکستان 33 کے ویزہ فری اسکور کے ساتھ 103 ویں نمبر پر تھا، جس کا مطلب ہے کہ پاکستانی پاسپورٹ کے حامل افراد پیشگی ویزہ کے بغیر 33 مقامات پر داخل ہو سکتے تھے۔
ہینلے پاسپورٹ انڈیکس 2026 میں پاکستان 98 ویں نمبر پر ہے، لیکن اس کا ویزہ فری اسکور کم ہو کر 31 رہ گیا ہے۔ یہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستانی پاسپورٹ کے حامل افراد اب گزشتہ سال کے مقابلے میں مزید کم ممالک میں ویزہ کے بغیر داخل ہو سکتے ہیں۔
درجہ بندی (رینکنگ) کے نمبروں میں تبدیلی کے باوجود، پاکستان دونوں برسوں میں آخری 5 درجوں میں ہی برقرار رہا۔
آپ اس رپورٹ کو یہاں دیکھ سکتے ہیں:
یہ بات نوٹ کرنا بھی ضروری ہے کہ ہینلے اینڈ پارٹنرز ہر سال پاسپورٹ انڈیکس کی 4 اپ ڈیٹس (تازہ ترین تفصیلات) جاری کرتا ہے۔
جیو فیکٹ چیک نے اس حوالے سے وضاحت کے لیے ہینلے پاسپورٹ انڈیکس سے رابطہ کیا۔ ایک ترجمان نے وضاحت کی کہ رینکنگ میں بہتری کا لازمی مطلب یہ نہیں ہوتا کہ پاسپورٹ مضبوط ہوا ہے۔
انہوں نے وضاحت کی: ”درجہ بندی اکثر فہرست میں موجود دیگر ممالک کی نقل و حرکت اور پوزیشن مستحکم ہونے سے متاثر ہوتی ہے، اس لیے انہیں مجموعی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے، ویزہ فری اسکور میں آنے والی تبدیلی اس بات کا زیادہ درست پیمانہ ہے کہ سال بھر کے دوران کسی پاسپورٹ کی قدر میں کتنا اضافہ یا کمی ہوئی ہے۔“
انہوں نے مزید کہا کہ ویزہ پالیسیوں میں تبدیلیوں اور ای-ویزہ (eVisa) سسٹمز کے متعارف ہونے کی وجہ سے، اس سال دنیا بھر میں بہت سے پاسپورٹس نے مخصوص مقامات تک رسائی کھو دی ہے۔
انہوں نے مزید کہا ”پاکستانی پاسپورٹ نے فہرست کے پست ترین5 درجوں میں اپنی پوزیشن برقرار رکھی ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اس میں نہ تو کوئی بڑی گراوٹ آئی ہے اور نہ ہی کوئی قابل ذکر بہتری۔“
پاکستانی پاسپورٹ کی درجہ بندی اور ویزہ فری اسکور (2021-2026)
فیصلہ: ہینلے پاسپورٹ انڈیکس میں پاکستانی پاسپورٹ کی قدر کا اصل پیمانہ اس کا ویزہ فری اسکور ہے۔ اس پیمانے پر پاکستان کے اسکور میں کمی آئی ہے، جبکہ انڈیکس کے آخری درجوں میں اس کی پوزیشن بدستور برقرار ہے۔ لہٰذا، اس صورتحال کو ”بڑی کامیابی“ قرار دینے کا دعویٰ گمراہ کن ہے۔
ہمیں X (ٹوئٹر) GeoFactCheck@ اور انسٹا گرام geo_factcheck@ پر فالو کریں۔ اگر آپ کو کسی بھی قسم کی غلطی کا پتہ چلے تو [email protected] پر ہم سے رابطہ کریں۔


























Leave a Reply