کوئی 2 تو کوئی 3، یورپی ممالک گرین لینڈ میں افواج کی موجودگی بڑھانے کیلئے کتنے فوجی بھیج رہے ہیں؟


 

کوئی 2 تو کوئی 3، یورپی ممالک گرین لینڈ میں افواج کی موجودگی بڑھانے کیلئے کتنے فوجی بھیج رہے ہیں؟

گرین لینڈ اور ڈنمارک کے مطابق نیٹو اتحادیوں کے تعاون سے جزیرے اور اس کے اطراف میں فوجی موجودگی میں اضافہ کیا جا رہا ہے

یورپی ممالک نے گرین لینڈ کا دفاع مضبوط بنانے کے لیے محدود تعداد میں فوجی اہلکار تعینات کرنا شروع کر دیے ہیں۔

غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق  اس اقدام کا مقصد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو گرین لینڈ کی سلامتی سے متعلق یقین دہانی کرانا بتایا جا رہا ہے۔

صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اسٹریٹجک محلِ وقوع اور معدنی وسائل سے مالا مال گرین لینڈ امریکی سلامتی کے لیے نہایت اہم ہے اور روس یا چین کے اثر و رسوخ کو روکنے کے لیے امریکا کو اس جزیرے کا مالک ہونا چاہیے۔ 

ٹرمپ کے مطابق گرین لینڈ، جو ڈنمارک کا خودمختار علاقہ ہے، آرکٹک خطے میں روسی اور چینی اثرات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا اسی لیے امریکا کے پاس اس علاقے کو محفوظ بنانے کے لیے تمام آپشنز موجود ہیں۔

روس نے نیٹو کی جانب سے ماسکو اور بیجنگ کو گرین لینڈ کے لیے خطرہ قرار دینے کے بیانیے کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ محض خوف پھیلانے کی کوشش ہے۔ 

روسی وزارتِ خارجہ کی ترجمان نے خبردار کیا کہ آرکٹک میں روسی مفادات کو نظرانداز کرنے کی کسی بھی کوشش کا جواب دیا جائے گا۔ 

خبررساں ایجنسی کے مطابق اس وقت اس بات کے شواہد کم ہیں کہ بڑی تعداد میں چینی یا روسی بحری جہاز گرین لینڈ کے ساحلوں کے قریب سرگرم ہوں۔

دوسری جانب گرین لینڈ اور ڈنمارک نے واضح طور پر کہا ہے کہ گرین لینڈ برائے فروخت نہیں۔ 

یورپی یونین کے اہم ممالک نے بھی ڈنمارک کی حمایت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے گرین لینڈ پر فوجی قبضے کی کوشش کی تو یہ عملی طور پر نیٹو کے خاتمے کے مترادف ہوسکتا ہے۔

کوئی 2 تو کوئی 3، یورپی ممالک گرین لینڈ میں افواج کی موجودگی بڑھانے کیلئے کتنے فوجی بھیج رہے ہیں؟

گرین لینڈ اور ڈنمارک کے مطابق نیٹو اتحادیوں کے تعاون سے جزیرے اور اس کے اطراف میں فوجی موجودگی میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔ 

تاہم اس حوالے سے ابتدائی تعیناتیاں محدود دکھائی دیتی ہے۔ ڈنمارک کے وزیرِ خارجہ لارش لوکے راسموسن کے مطابق اس وقت گرین لینڈ میں تقریباً 200 امریکی فوجی موجود ہیں، کیال رہے کہ اس علاقے کی  آبادی محض 57 ہزار کے لگ بھگ ہے۔ 

جرمن فوج نے 13 رکنی ریکونسنس ٹیم کو پہلے کوپن ہیگن اور پھر ڈنمارک کے اہلکاروں کے ہمراہ گرین لینڈ بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بدھ کی شب ڈنمارک کی فضائیہ کا ایک طیارہ نوک ائیرپورٹ پر اترا، جہاں وردی میں ملبوس فوجی اہلکار اترتے دیکھے گئے۔ 

سویڈن 3 افسران، ناروے 2، جبکہ فرانس تقریباً 15 فوجی بھیج رہا ہے۔ برطانیہ کا ایک افسر بھی گرین لینڈ بھیجا جارہا ہے جبکہ نیدرلینڈز نے اپنی بحریہ کا ایک افسر بھیجنے کا اعلان کیا ہے، پولینڈ نے کہا ہے کہ وہ کوئی فوجی نہیں بھیجے گا جبکہ فن لینڈ 2 فوجی گرین لینڈ بھیج رہا ہے۔



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *