عالمی انسانی حقوق کی رپورٹ میں بھارت میں مسلمانوں کے خلاف منظم ریاستی جبر کا انکشاف ہوا ہے۔
ساؤتھ ایشیا جسٹس کیمپین کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2025 کےدوران بھارت میں ماورائے عدالت کارروائیوں میں 50 مسلمان شہید کیے گئے، ہندوتوا انتہا پسندعناصرکے ہاتھوں 23 اور ہندو انتہا پسند حملوں میں 27 مسلمان شہید ہوئے۔
رپورٹ کے مطابق مسلم مخالف تقاریر کے نتیجے میں13ریاستوں میں26 سے زائد منظم اجتماعی تشدد کے واقعات ہوئے، مذہبی بنیادوں پر سب سے زیادہ قتل اترپردیش میں ہوئے جہاں 6 مسلمان شہید کیے گئے۔
عالمی انسانی حقوق کی رپورٹ میں بتایاگیا ہےکہ گائے کے نام پر تشدد کے واقعات میں 9 مسلمانوں کو شہید کیا گیا اور گائے کے نام پر 3 افراد کو شدید تشدد کے بعد خودکشی پر مجبور کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیر، آسام، اترپردیش اور دیگر علاقوں میں17سے زائد مسلمان اور 2 بچے ریاستی درندگی کا نشانہ بنے جب کہ 4 ہزار سے زائد بنگالی بولنے والے مسلمانوں کو غیرقانونی طور پر بھارت سے بے دخل کیا گیا۔
ساؤتھ ایشیا جسٹس کیمپین کی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ گزشتہ سال مسلمانوں کو نشانہ بناتے ہوئے املاک کی مسماری اور بےدخلی بھارتی ریاست کی پہچان بنی رہی۔
اس حوالے سے مبصرین کا کہنا ہے کہ بھارت میں مذہبی شناخت کی بنیاد پر مسلمانوں کو نشانہ بنانا سماجی ہم آہنگی اور علاقائی امن کے لیے شدید خطرہ ہے۔






















Leave a Reply