پتہ لگوائیں ججزکیخلاف مہم کے پیچھےکون ہے؟لاہور ہائیکورٹ کا این سی سی آئی اےکولسٹ بنانےکا حکم


پتہ لگوائیں ججزکیخلاف مہم کے پیچھےکون ہے؟لاہور ہائیکورٹ کا این سی سی آئی اےکولسٹ بنانےکا حکم

فوٹو: فائل

لاہور ہائی کورٹ نے ججوں کے خلاف غیر مناسب پوسٹیں لگانے والوں کی لسٹ بنانےکا حکم دیتے ہوئے وفاقی حکومت کو ججوں کے خلاف غیر مناسب مواد فوری ہٹانے کی ہدایت کردی۔

لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس علی ضیا باجوہ نے شہری پرویز الہٰی کی درخواست پر سماعت کی۔

درخواست گزار کی جانب سے میاں داؤد ایڈووکیٹ پیش ہوئے اور عدالت کو بتایا کہ گزشتہ چار ہفتوں سے لاہور ہائی کورٹ کی خواتین ججز کے خلاف سوشل میڈیا پر منفی پروپیگنڈا کیا جارہا ہے، ملک بھر کی بار ایسوسی ایشنز  نے ججز کے خلاف مہم کی مذمت بھی کی مگر کسی ریاستی ادارے نے کارروائی نہیں کی۔

عدالت نے سرکاری وکیل سے استفسار کیا کہ لاء افسر صاحب یہ بتائیں کیا این سی سی آئی اے کا سو موٹو کا اختیار ختم ہو گیا ہے؟ این سی سی آئی اے کے پاس سائبر پولیسنگ کا اختیار ہے ، ادارہ کیوں سو رہا ہے؟ جس طرح معزز ججز کے خلاف مہم چل رہی ہے، ادارے کیوں خاموش ہیں؟ این سی سی آئی اے قانون کے مطابق ڈیوٹی ادا نہیں کر رہا تو یہ بدنیتی ہے۔

عدالت کا کہنا تھا کہ  عدلیہ کے ادارے کو ٹارگٹ کرنا سائبر دہشت گردی ہے،کیا این سی سی آئی اے نے کسی کو انکوائری کا لیٹر یا پی ٹی اے کو مواد ہٹانے کے لیے کوئی ایکشن لیا؟

سرکاری وکیل نے بتایا کہ این سی سی آئی اے ہیڈکوارٹرز سے چیک کر لیتے ہیں۔

ایڈوکیٹ جنرل پنجاب امجد پرویز نے عدالت کو بتایا کہ ہم ایسی مہم کی مذمت کرتے ہیں۔

عدالت نے ایڈووکیٹ  جنرل پنجاب کو این سی سی آئی اے کی معاونت کی ہدایت کرتے ہوئے ریمارکس دیےکہ  اب کوئی پوسٹ نظر آئی تو ڈی جی این سی سی آئی اے ذمہ دار ہوں گے، این سی سی آئی اے کی جانب سے کوئی کوشش تو نظر آنی چاہیے، اس معاملے کو  ایسے نہیں چھوڑا جاسکتا۔

ایڈیشنل ڈائریکٹر این سی سی آئی اے  نے عدالت کو  بتایا کہ میرے علم میں آج  یہ معاملہ آیا ہے۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ یہ کیا بات ہوئی ؟ کہاں ہے سائبر پولیسنگ ؟ کیا آپ نے آنکھیں بند کی ہوئی ہیں؟ پتہ لگوائیں کہ ججز کے خلاف مہم کے پیچھے کون ہے؟

عدالت نے ججز کے خلاف غیر مناسب پوسٹس لگانے والوں کی لسٹیں بنانے کا حکم دیتے ہوئے ڈی جی این سی سی آئی اے کو 15 جنوری کو ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا۔



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *