نئی دہلی: گزشتہ سال پاک بھارت جنگ بندی کے موقع پر بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر کی امریکی حکام سے ملاقاتوں کے لیے لابنگ فرم استعمال کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق 10 مئی 2025 کو پاک بھارت جنگ بندی کے موقع پر جے شنکر کی امریکی حکام سے ملاقاتوں کے لیے لابنگ فرم کا استعمال کیا گیا۔ واشنگٹن میں بھارتی سفارتخانے نے ان ملاقاتوں کے لیے صدر ٹرمپ کے قریبی ساتھی کی لابنگ فرم ایس ایچ ڈبلیو سے رابطہ کیا۔
بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ لابنگ فرم کی محکمہ انصاف میں جمع کرائی گئی دستاویزات کے مطابق واشنگٹن میں بھارتی سفارتخانے نے 10 مئی کو آپریشن سندور پر امریکی حکام سے بات کرنے کے لیے رابطہ کیا۔ یہ رابطہ جے شنکر، خارجہ سیکرٹری وکرم مصری، ڈپٹی این ایس اے پون کمار اور واشنگٹن میں بھارتی سفیر وینے کواٹرا نے کرنی تھیں۔
بھارتی میڈیا کے مطابق جن امریکی حکام سے ملاقاتوں کے لیے رابطہ کیا گیا ان میں وائٹ ہاؤس چیف آف اسٹاف سوزی وائلز، امریکا کے تجارتی نمائندے جیمیسن گرییر اور نیشنل سیکورٹی کونسل کے رکی گل شامل ہیں۔
دستاویزات کے مطابق ان ملاقاتوں کا مقصد آپریشن سندور کی میڈیا کوریج پر بات کرنا تھا۔
بھارتی صحافیوں نے سوشل میڈیا پر کہا ہے کہ بھارتی سفارتخانے کا کہنا ہے کہ لابنگ فرم کی خدمات لینا معمول کی بات ہے۔
البتہ ترجمان نے اس سوال کا جواب نہیں دیا کہ 10 مئی کو آپریشن سندور پر امریکی حکام سے بات کرنے کے لیے لابنگ فرم کو کیوں ہائر کیا گیا؟
ایک اور بھارتی صحافی نے لکھا کہ جے شنکر جے ڈی وینس اور پیٹر ہیگسیتھ سے براہ راست ملاقات کا بندوبست نہ کرسکے، اس لیے لابنگ فرم ہائر کرنا پڑی۔ حالانکہ بھارتی میڈیا انہیں ایک ایسی شخصیت کے طور پر پیش کرتا ہے، جو بس فون اٹھاتے ہیں اور امریکا میں کسی سے بھی بات کرلیتے ہیں۔























Leave a Reply