سندھ میں ایک ہزار 18 ارب روپے کے ترقیاتی منصوبے منظور کرلیے گئے۔
سندھ کے سینیئر وزیر شرجیل انعام میمن کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت کی ترقیاتی اسٹریٹجی 2025-26 کے تحت مجموعی طور پر ایک ہزار 18 ارب روپے کے منصوبے منظور کر لیے گئے ہیں۔
اپنے ایک بیان میں شرجیل انعام میمن نے کہا کہ ترقیاتی اسٹریٹجی کے تحت سیلاب سے متاثرہ 1،600 ثانوی اسکولوں کی تعمیرِ نو کے لیے 340 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
شرجیل میمن نے بتایا کہ 9 نئے کیڈٹ کالجز قائم کیے جائیں گے اور سکھر میں خواتین یونیورسٹی کا منصوبہ تیزی سے مکمل کیا جا رہا ہے۔
صوبائی وزیر نے بتایا کہ سندھ پیپلز سیلاب متاثرین کے لیے ہاؤسنگ اسکیم کراچی اور دیگر شہروں میں جاری ہے۔اب تک 20لاکھ گھروں کی تصدیق مکمل ہو چکی ہے، تقریباً 14 افراد کو ادائیگیاں کی جا چکی ہیں، 10 لاکھ روزگار کے مواقع پیدا ہوئے اور 3 لاکھ خواتین کو زمین کے مالکانہ حقوق دیے جا چکے ہیں۔
شرجیل میمن کا مزید کہنا تھا کہ 146.9 ارب روپے ایس آئی یو ٹی، ایس آئی سی وی ڈی، انڈس اسپتال اور سندھ کے بڑے اسپتالوں کو گرانٹس اِن ایڈ کے طور پر فراہم کیے گئے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ توانائی کے شعبے میں سندھ سولر انرجی منصوبے کے لیے 69.97 ارب روپے مختص ہیں۔پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت گھوٹکی، کندھ کوٹ پل اور دھابیجی انڈسٹریل زون پر کام جاری ہے جو صنعتی ترقی اور شہری فلاح و بہبود میں معاون ثابت ہوں گے۔
شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ شدید موسمی حالات کے خلاف مضبوط انفرااسٹرکچر کی تعمیر، سیلاب متاثرہ علاقوں کی بحالی، تعلیم اور صحت، بہتر رابطہ کاری اور غربت میں کمی سندھ حکومت کی ترجیحات میں شامل ہیں۔























Leave a Reply