پیپلز پارٹی کی سینیٹر پلوشہ خان نے سینیٹ کمیٹی برائے مواصلات کے اجلاس میں ہونے والی تلخ کلامی کے معاملے پر وفاقی وزیر عبدالعلیم خان کے خلاف تحریک استحقاق جمع کرا دی۔
قائمہ کمیٹی برائے مواصلات کے اجلاس میں تلخ کلامی پر پیپلز پارٹی کی سینیٹر پلوشہ خان نے سحر کامران کے ہمراہ پریس کانفرنس کی جس میں انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف سے مطالبہ کیا کہ اپنے نتیش کمار جیسے وزیروں کو سنبھالیں۔
پلوشہ خان کا کہنا تھا ہم عوامی نمائندے ہیں اور سینیٹ کمیٹی کے اجلاس میں ایک سوال کا جواب مانگا تھا، اجلاس کے دوران جو بھی تلخ کلامی ہوئی اس معاملے کو ہر فورم پر اٹھائیں گے، بزدل مرد ہمیشہ پہلے خاتون پر حملہ آور ہوتے ہیں، اگر کسی آوارہ جانور نے مجھے کاٹنے کی کوشش کی تو ٹیکے اس آوارہ جانور کو لگیں گے۔
پلوشہ خان نے کہا کہ وفاقی وزیر کے خلاف تحریک استحقاق جمع کرادی ہے، اب بات سینیٹ میں ہوگی اور فیصلہ صدر آصف علی زرداری کریں گے۔
پلوشہ خان نے کہا سوال ٹیکس کے پیسوں سے بنی سڑک کا تھا کہ وہ سڑک عوام کے لیے ہے یا ایک ہاؤسنگ سوسائٹی کے لیے؟ وزرا ایوان کو جوابدہ ہیں، مسئلہ سوال کا نہیں جواب کا ہے۔
واضح رہے کہ چند روز قبل قائمہ کمیٹی مواصلات کے اجلاس میں وفاقی وزیر عبدالعلیم خان اور پیپلز پارٹی کی سینیٹر پلوشہ خان میں تلخ کلامی ہوئی تھی ۔
بات “شٹ اپ” اور “یو شٹ اپ” تک پہنچی تھی، وفاقی وزیر عبد العلیم خان نے چیئرمین کمیٹی پرویز رشید کے کہنے پر پلوشہ خان سے مشروط معافی بھی مانگی تھی۔


























Leave a Reply