دنیا کی قدیم ترین تصویری کہانی کو انڈونیشیا میں دریافت کیا گیا ہے جو کم از کم 67 ہزار سال سے زائد پرانی ہے۔
انڈونیشیا کے جزیرے سولاویسی کے معروف سیاحتی مقام میونا آئی لینڈ میں واقع چونے کے پتھر کی غار میں اسے دریافت کیا گیا۔
ماہرین آثار قدیمہ کے مطابق یہ دنیا کا قدیم تریم چٹانی خاکہ ہے جس میں ایک ہاتھ کے مدھم نشان کو چٹانی دیوار پر دیکھا جاسکتا ہے۔
ماہرین کے خیال میں اسے کم از کم 67 ہزار 800 سال قبل بنایا گیا تھا۔
ہاتھ کے اس قدیم ترین نشان پر کسی کی نظر میں نہیں آسکا تھا۔
چٹانی آرٹ سے ہٹ کر اس دریافت سے عندیہ ملتا ہے کہ کب اور کیسے آسٹریلیا میں انسان بسنا شروع ہوئے کیونکہ ان کے خیال میں یہ تصویری کہانی آسٹریلیا کے قدیم باشندوں کے آباؤ اجداد کی تیار کردہ ہے۔
آسٹریلیا کی گریفتھ یونیورسٹی کے محققین نے بتایا کہ انڈونیشیا کے جزائر کی غاروں میں ایسی متعدد تصویری کہانیاں موجود ہیں، مگر یہ جاننا مشکل ہے کہ وہ کتنی پرانی ہیں، جب آپ یہ جان لیتے ہیں کہ وہ کتنے پرانے ہیں تو ہمارے لیے ایک بالکل مختلف دنیا کے دروازے کھل جاتے ہیں، ہم ماضی کی جھلک دیکھتے ہیں اور لوگوں کی ذہنیت کا اندازہ لگاتے ہیں۔
تحقیق کے دوران ماہرین نے سولاویسی کے جنوب مغربی خطے میں چٹانی تصاویر کی بھرپور تاریخ کا انکشاف کیا۔
ایک غار میں موجود تصویری کہانی میں 3 انسانوں اور ایک جنگلی خنریر کو دکھایا گیا اور یہ کہانی کم از کم 51 ہزار 200 سال پرانی ہے۔
جو نیا تصویری خاکہ دریافت کیا گیا وہ سولاویسی کے جنوب مشرقی حصے میں واقع غار میں موجود ہے اور بہت زیادہ ماند پڑچکا ہے۔
تحقیقی ٹیم نے اس کے نمونوں کا تجزیہ کرکے یہ معلوم کیا کہ وہ تصویری کہانی کتنی پرانی ہے۔
محققین کا ماننا ہے کہ شمالی آسٹریلیا میں انسان کم از کم 65 ہزار سال پہلے بس گئے تھے۔
یہ خاکہ ایک قدیم روغن سے تیار کردہ ہے جسے پانی میں ملا کر ہاتھ کے ذریعے چٹان پر استعمال کیا گیا۔
اس تحقیق کے نتائج جرنل نیچر میں شائع ہوئے۔


























Leave a Reply