ویسے تو سننے میں یہ کسی فلمی کہانی کی طرح ہے مگر بچپن میں اپنے خاندان سے بچھڑ جانے والا ایک شخص 2 دہائیوں سے زائد عرصے بعد اپنے خاندان سے ملنے میں کامیاب ہوگیا۔
28 سالہ زینگ یون پنگ 4 سال کی عمر میں والدین سے بچھڑ گیا تھا اور کینیڈا سے تعلق رکھنے والے جوڑے نے اسے گود لے لیا تھا۔
زینگ 2001 میں چین کے صوبے لیاؤننگ کے ایک ریلوے اسٹیشن میں خاندان سے اس وقت بچھڑ گیا، جب اس کے ایک انکل اسے چھوڑ کر آئسکریم لینے گیا تھا۔
اس وقت 4 سالہ زینگ ایک حکومتی فلاحی مرکز میں پہنچ گیا جہاں اسے شین ہوابی کا نام دیا گیا۔
2005 میں زینگ کو ایک کینیڈین جوڑے نے گود لے لیا اور اسے کینیڈا لے گئے۔
مگر کچھ عرصے بعد اسے گود لینے والے جوڑے کی طلاق ہوگئی اور کسی ایک نے بھی اس کا خیال رکھنے میں دلچپسی ظاہر نہیں کی۔
بعد ازاں زینگ کو ایک خاندان کے ساتھ رہنے کے لیے بھیجا گیا مگر وہاں اس کا زیادہ خیال نہیں رکھا گیا۔
جس وقت زینگ اپنے خاندان سے جدا ہوا، اس کے والد جیل میں تھے اور اس کی والدہ نے شوہر کو چھوڑ کر دوسری شادی کرلی۔
تعلیم مکمل کرنے کے بعد زینگ نے کمانا شروع کیا اور 2025 میں چین کے ایک ادارے بے بی ریٹرننگ ہوم سے رجوع کیا۔
یہ ادارہ زینگ کی طرح بچپن میں والدین سے بچھڑ جانے والے افراد کو خاندان سے ملانے کا کام کرتا ہے۔
اس ادارے نے زینگ کے خون کے نمونے لیے اور چین کے قومی ڈی این اے ڈیٹا بیس کو بھیجے اور کچھ دنوں بعد اس کے والدین کی شناخت ہوگئی۔
زینگ کے والد نے بتایا کہ ’24 سال بعد جب میں نے اس کی تصویر دیکھی تو میں جان گیا کہ یہ میرا بیٹا ہے، کیونکہ وہ بالکل میری طرح نظر آرہا تھا’۔
بیٹے سے ملاقات سے قبل والد نے زینگ کو 10 ہزار یوآن ٹرانسفر کیے۔
زینگ ابھی تک اپنی والدہ سے نہیں ملا کیونکہ وہ الگ صوبے میں مقیم ہے۔
زینگ اب کینیڈا کا شہری ہے اور ویزا مسائل کے بعث چند ہفتوں میں واپس لوٹ جائے گا۔


























Leave a Reply