اسلام آباد: وفاقی وزیرتجارت جام کمال خان کا کہنا ہےکہ ہمارے پاس بحیرہ احمر اور فجیرہ کے سمندری راستے ہیں جس سے ایکسپورٹ متاثر ہونے سے بچا رہے ہیں، وزیراعظم نےکہا ہےکہ تیل کی عالمی قیمتیں بڑھتی ہیں تو عوام پر بوجھ نہیں ڈال سکتے، ایسی صورت میں حکومت تیل کی اضافی قیمتوں کا بوجھ خود برداشت کرےگی۔
جیو نیوز سےگفتگو میں وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نےکہا کہ آئی ایم ایف کے پروگرام کے تحت ایکسپورٹرزکو بہت زیادہ سبسڈی نہیں دے سکتے، ہم آئی ایم ایف کے پروگرام کے اندر ہیں، سبسڈی دینا معاشی معاہدوں پر بھی منحصر ہے، آئی ایم ایف کے ساتھ کیےگئے معاہدے نہیں چھیڑے جاسکتے.
وفاقی وزیر تجارت کا کہناتھا کہ عمان، فجیرہ اور بحیرہ احمر میں ابھی ہماری تجارت متاثر نہیں ہوئی، قطر، بحرین اور دبئی میں تجارتی بیڑے متاثر ہوئے ہیں، کراچی پورٹ پر مڈل ایسٹ جانے والے جہاز رکے ہوئے ہیں، قطر ،عمان، بحرین اور سعودی عرب سے متبادل تجارتی روٹ پر بات ہورہی ہے، تیل کی ترسیل کویت ،سعودی عرب اور قطر سے متبادل روٹ سے ہو رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور دیگر ممالک کی کوشش ہےکہ یہ کشیدگی کم ہو، ہمارے پاس بحیرہ احمر اور فجیرہ اور سعودی عرب کے سمندری راستے ہیں جس سے ہم اپنی ایکسپورٹ کو متاثر ہونے سے بچا رہے ہیں، ایرانی سیستان بلوچستان اگر متاثر ہوگا تو پاکستان کا بلوچستان بھی معیشت اور سیاسی لحاظ سے متاثر ہوگا۔






















Leave a Reply