گورنرسندھ کامران خان ٹیسوری نے سانحہ گل پلازہ پر حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے سانحے کی جوڈیشل انکوائری کا مطالبہ کردیا۔
کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے کہا کہ انہوں نے نےبروقت جاکر لوگوں کے زخموں پر مرہم رکھا، ریسکیو اداروں کوبلوایا، پانی منگوایا، ٹریفک کھلوائی، یہ نہیں چلےگا کہ گورنر ریسکیوکےلیےگیا تو اسی پرالزام لگادوکہ وہ کیوں گیا، جن کی ذمہ داری تھی وہ گل پلازہ پر موجود ہی نہیں تھے ، بتایا جائےیہ خون کس کے ہاتھ پر ہے۔
گورنر سندھ نے مخالفین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ سیاست کرنیوالو، کراچی کے لوگوں کے دلوں میں نفرت آچکی ہے، بےحسی کی انتہا ہے لیکن کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگ رہی، گورنر سندھ نے مطالبہ کیا کہ ذمہ داروں کا تعین کرکے سزا دی جائے۔
گورنر سندھ نے سانحے کی جوڈیشل انکوائری کا مطالبہ کرتے ہوئے سندھ ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ کےچیف جسٹس کو خط لکھنے اور خود کوبھی کمیشن میں پیش کرنےکا اعلان کردیا۔
گورنر سندھ نے کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ سےکہتا ہوں شاید آپکو سہی بات نہیں بتائی جا رہی، گورنر نے سوال کیا کہ پوچھیں مشینری سہی کام کیوں نہیں کررہی؟ وہاں جس کا باپ مارا گیا اسکے بیٹے پر لاٹھی چارج کیوں کیا جا رہا ہے؟
گورنرسندھ نےکہا کہ سیاسی الزام تراشی نہیں ہونے دوں گا، یہ فائل بند نہیں ہوگی،کوئی سیاست کرےگا تو سب کا کچہ چٹھ کھول دوں گا۔ انتظامیہ نے مجرمانہ غفلت کی ہے، پردہ ڈالنےنہیں دوں گا۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر سےکہوں گا،کراچی آپ کا منتظر ہے، دیکھیں یہاں کس نے زیادتی کی ہے۔
گورنرسندھ کامران ٹیسوری نے سانحہ گل پلازہ میں جاں بحق افراد کے لواحقین کو ایک ایک پلاٹ دینے کا اعلان کیا۔


























Leave a Reply