کراچی: گل پلازہ میں فائر بریگیڈ اور ریسکیو اہلکاروں کی کارروائیاں جاری ہیں جہاں دو فلورز کو کلیئر کردیا گیا ہے۔
کراچی کے ضلع جنوبی کے ڈپٹی کمشنر جاوید نبی کھوسو نے بتایا کہ آگ سے متاثر ہونے والے گل پلازہ کے گراؤنڈ فلور اور پہلے فلور کو کلیئر کردیا گیا ہے۔
دوسرے اور تیسرے فلور میں داخلے کی کوشش کررہے ہیں، کٹر کی مدد سے گرل کاٹ رہے ہیں: ڈپٹی کمشنر
ڈی سی نے بتایا کہ دوسرے اور تیسرے فلور میں داخلے کی کوشش کررہے ہیں، کٹر کی مدد سے گرل کاٹ رہے ہیں۔
جاوید نبی کھوسو کے مطابق رات مزید دو لاشیں ملی ہیں جس کے بعد آگ سے جاں بحق ہونے والے افراد کی تعداد 26 ہو گئی جب کہ لاپتا افراد کی تعداد 83 ہوگئی ہے۔
دوسری جانب پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ کا کہنا ہے کہ اب تک 18افراد کی شناخت ہوچکی ہے، سول اسپتال میں 48فیملیز نے اپنے ڈی این اے سیمپل جمع کرائے ہیں، 20لاشوں کے بھی سیمپل لے لیے گئے ہیں۔
دل دہلا دینے والے انکشافات
متاثرہ دکانداروں کا کہنا ہے کہ عمارت کے کُل 26 داخلی و خارجی دروازے ہیں ، رات دس بجے تمام گیٹ بند کرکے صرف دو دروازے کُھلے رکھے جاتے ہیں۔
کوئی ایمرجنسی ایگزٹ نہیں تھا اور آگ انتہائی تیزی سے پھیل رہی تھی: دکاندار
دکانداروں نے بتایا کہ المناک سانحے کے وقت عمارت میں موجود لوگوں کو معمول کے مطابق 26 میں سے 24 دروازے بند ملے ، کوئی ایمرجنسی ایگزٹ نہیں تھا اور آگ انتہائی تیزی سے پھیل رہی تھی، پوری مارکیٹ میں دھواں ہی دھواں بھر چکا تھا۔
دکانداروں نے بتایا کہ آگ کے وقت بجلی بند تھی، کسی کو کچھ سمجھ آرہا تھا، نہ نظر نہ آ رہا تھا، بھگدڑ مچی ہوئی تھی، دھوئیں کی وجہ سے محصور افراد کو سانس لینے میں شدید دشواری تھی۔ واقعے کے وقت دکانوں پر ورکرز اور گاہک موجود تھے۔
آگ لگنے کے کچھ دیر بعد کچھ لوگ بے ہوش ہو کر زمین پر گر پڑے: دکاندار
دکانداروں کے مطابق آگ لگنے کے کچھ دیر بعد کچھ لوگ بے ہوش ہو کر زمین پر گر پڑے، دکانداروں نے بہت سے لوگوں کو اپنی مدد آپ کے تحت ہی عمارت سے باہر نکالا۔


























Leave a Reply