کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) سید مونس عبداللہ علوی نے عہدے سے استعفا دیدیا۔
ذرائع کے مطابق مونس علوی کے الیکٹرک کی سابقہ ملازمہ کی جانب سے ہراسانی کے الزامات کے سبب کئی ماہ سے ذہنی دباؤ کا شکار تھے اور بلآخر انہوں نے کے الیکٹرک کے چیئرمین کو استعفا پیش کردیا۔
مونس علوی 2008 میں کے الیکٹرک سے وابستہ ہوئے تھے۔ اس دوران وہ چیف فنانشل آفیسر، کمپنی سیکرٹری اور ہیڈ آف ٹریژری بھی رہے تاہم 2018 میں انہیں چیف ایگزیکٹو آفیسر مقرر کردیا گیا تھا۔
کے الیکٹرک کے مطابق 30 سال کا تجربہ رکھنے والے مونس علوی نے گلوبل ایوارڈ یافتہ روشنی باجی پروگرام سمیت کئی اہم انیشیٹیو لیے۔ وہ میڈیا میں بھی کمپنی کا چہرہ تصور کیے جاتے تھے۔
تاہم کے الیکٹرک ہی کی سابق چیف مارکیٹنگ اینڈ کمیونیکیشن افسر مہرین عزیز خان نے پچھلے سال الزام عائد کیا تھا کہ مونس علوی نے انہیں ہراساں کیا، دھمکیاں دیں اور ذہنی دباؤ کا شکار کیا۔
خاتون نے مونس علوی کیخلاف محتسب اعلیٰ سندھ جسٹس ریٹائرڈ شاہ نواز طارق کو درخواست کی تھی جس پر صوبائی محتسب نے مونس علوی کو عہدے سےہٹانے اور ان پر 25 لاکھ روپے جرمانہ عائد کرنے کا حکم سنایا تھا۔
مونس علوی یہ الزامات تسلیم کرنے سے انکار کرتے رہے ہیں اور انہوں نے محتسب اعلی کے فیصلے کیخلاف اپیل کرنے کا اعلان کیا تھا۔
معاملہ گورنر سندھ کامران ٹیسوری تک پہنچا تھا جنہوں نے اپنے طور پر تحقیقات کے بعد مونس علوی کیخلاف 31 جولائی سن 2025 کو جاری صوبائی محتسب کا فیصلہ منگل کو کالعدم قرار دیدیا تھا۔
گورنر سندھ کی جانب سے جاری فیصلے میں کہا گیا کہ صوبائی محتسب نے شواہد نظرانداز کیے ہیں۔
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نے مونس علوی پر الزام عائد کرنیوالی خاتون کو پیش ہونے کا کہا تھا جس پر وہ گورنر ہاؤس آنے سے گریز کرتی رہی تھی۔
جب آخری بار خاتون کو آگاہ کیا گیا کہ اگر وہ نہ آئیں تو مونس علوی کے حق میں فیصلہ سنا دیا جائے گا تووہ پیش ہوئیں مگر ہراسانی سے متعلق الزامات کے دفاع میں کوئی بھی شواہد پیش کرنے میں ناکام رہی۔
گورنرسندھ کی جانب سے صوبائی محتسب کا فیصلہ کالعدم کیے جانے سے مونس علوی ذہنی دباؤ سے کسی حد تک نکل آئے تھے مگر ذرائع کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے فیصلہ کرلیا تھا کہ وہ کے الیکٹرک میں اس عہدے پر برقرار نہیں رہیں گے۔
ذرائع نے دعویٰ کیا کہ مونس علوی اپنا عہدہ کے الیکٹرک کے چیئر مین کو دے کر عمرے پر چل گئے ہیں۔


























Leave a Reply