سوال: زکوٰ ۃ کی رقم سے مشینری خرید کر اسپتال کو دینا تاکہ مریضوں کے علاج میں سہولت فراہم کی جاسکے، جائز ہے یا ملکیت کا مسئلہ رہے گا ؟
جواب: اَئمۂ اَحناف کے نزدیک زکوٰۃ کی درست ادائیگی کے لیے تملیک یعنی کسی مستحقِ زکوٰۃ شخص کو مالک بنانا شرط ہے، رفاہِ عامہ کے جن کاموں میں تملیک نہیں پائی جاتی، اُن میں زکوٰۃ کی رقم براہِ راست صَرف نہیں کرسکتے۔ تنویر الابصار مع الدر المختار میں ہے: ترجمہ:’’ اور زکوٰۃ ادا کرنے کی شرط یہ ہے کہ نادار کو مالک بنا دیا جائے نہ کہ محض استعمال کرنے کی اجازت دی ہو، ( جلد:3، ص:161 )‘‘۔
زکوٰۃ کی رقم سے اسپتال کے لیے آلات اور مشینری خرید کر براہِ راست ہسپتال کو نہیں دی جاسکتیں، البتہ یہ آلات ومشینری زکوٰۃ کی رقم سے لے کر کسی بھی مستحقِ زکوٰۃ شخص کی مِلک کردی جائے اور وہ اُسے ہسپتال کو ہبہ کردے، تو پھر بلا تفریق اس مشینری کو زکوٰۃ کے مستحق مریضوں اور غیر مستحق مریض کے لیے استعمال کرسکتے ہیں۔
مثلاً ایک شخص گردے کا مریض ہے، اس کی ڈائیلیسس چل رہی ہے، اسے ڈائیلیسسز مشین لے کر دے دی جائے، کیونکہ اسے آپریٹ کرنا اور اس کے مصارف جاریہ اور ڈاکٹر یا حسبِ ضرورت مردانہ وزنانہ نرسوں کا خرچ برداشت کرنا مشکل ہے، عام گھروں کا ماحول بھی حفظانِ صحت کے اصولوں کے مطابق (Hygienic) نہیں ہوتا، اسے فلاں اسپتال کو ہبہ کردو، تاکہ آپ بھی فائدہ اٹھائیں اور دوسرے مریضوں کو بھی فائدہ پہنچے، تو اس کے لیے اس کی حکمت سمجھنا دشوار نہیں ہوگا۔ یہی صورت ایکسرے مشینوں، الٹراساؤنڈ مشینوں، ایم آر آئی، سٹی اسکین اور دیگرٹیسٹنگ مشینوں کی ہے۔


























Leave a Reply