Skip to content
  • Saturday, 31 January 2026
  • 2:08 PM
Dailymithan news logo
  • کھیل
  • انٹرٹینمنٹ
  • کاروبار
  • دنیا
  • پاکستان
  • تازہ ترین
  • Home
  • کراچی کے زمینی انتظام یا منصوبہ بندی کا اصل ذمہ دار آخر کون سا ادارہ ہے؟

حالیہ پوسٹس

  • اداکارہ سبینہ سید رشتہ ازدواج میں منسلک، عروسی لباس پر تنقید کی زد میں آگئیں
  • بلوچستان کے 12 مقامات پر فتنہ الہندوستان کے حملے ناکام، 37 دہشتگرد ہلاک
  • سندھ میں اب کوئی گاڑی بغیر کمپیوٹرائز فٹنس کے نہیں چل سکے گی: شرجیل میمن
  • ٹی 20 ورلڈکپ کیلئے آسٹریلیا کے حتمی اسکواڈ کا اعلان، اہم فاسٹ بولر ٹیم سے باہر
  • پاکستان نے تاریخ میں پہلی بار قرضہ قبل از وقت واپس کردیا
پاکستان

کراچی کے زمینی انتظام یا منصوبہ بندی کا اصل ذمہ دار آخر کون سا ادارہ ہے؟

DAILY MITHAN Jan 31, 2026 0


کراچی کے زمینی انتظام یا منصوبہ بندی کا اصل ذمہ دار آخر کون سا ادارہ ہے؟

فائل فوٹو

پاکستان کے معاشی حب کراچی میں بے ہنگم اور غیرقانونی تعمیرات نے شہر کا نقشہ بگاڑ کر رکھ دیا، میگا سٹی کراچی بیک وقت کئی اداروں کے درمیان تقسیم ہے درجنوں ادارے زمین کی ملکیت کے دعویدار ہیں۔

 تعمیرات سے متعلق قوانین پر عمل درآمد کرانے والے اداروں میں مبینہ بے انتہا کرپشن نے شہرکو کنکریٹ کا بے ہنگم جنگل بنا کررکھ دیا، رہائشی یونٹس کی قیمتیں اور کرائے آسمان کو چھونے لگے ہیں۔

 شہر کا ماسٹر پلان کیا تھا کہاں گم ہوگیا اور نئے ماسٹر پلان کی کیا ترجیحات ہیں، سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی قانون کے مطابق کیا ذمہ داری انجام دے رہی ہے اور کرپشن سے کس طرح غیر قانونی تعمیرات کو تحفظ دیا جارہا ہے؟ کراچی کی زمین کتنے اداروں کے کنٹرول میں ہے؟تعمیرات کے لیے کتنے محکمے کام کررہے ہیں ؟

شہر کی زمین 24 سے زائد اداروں میں بٹی ہوئی ہے

ان سوالوں کا سادہ جواب یہ ہے کہ شہر کی زمین 24 سے زائد اداروں میں بٹی ہوئی ہے، جن میں صوبائی، وفاقی اور عسکری ادارے شامل ہیں، اس کے علاوہ شہر کا انتظام 30 سے زائد اداروں کے پاس ہے۔

ماہرین انتظام کی اسی “بندربانٹ” کو شہر کی بے انتظامی کی اصل وجہ قرار دیتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ جب تک شہر کو کسی ایک اتھارٹی کے ماتحت نہیں کیا جاتا، مسائل حل نہیں ہوں گے۔

کھیل کے میدانوں میں چائنا کٹنگ اور رفاہی زمین پر شاپنگ مال یا پلازہ بن جاتا ہے، سڑک بنتے ہی یا تو ٹوٹ جاتی ہے یا کوئی دوسرا ادارہ اسے پانی، گیس یا سیوریج کی لائن ڈالنے کیلئے کھود ڈالتا ہے۔

کراچی کے زمینی انتظام یا منصوبہ بندی کا اصل ذمے دار آخر کون سا ادارہ ہے؟

جواب ڈھونڈنے نکلیں تو پتا چلتا ہے اس حوالے سے شہر میں کوئی مرکزیت نہیں، مثال کے طور پر اگر کسی علاقے کی سڑک ٹوٹی ہوئی ہے تو یہ دیکھنا پڑتا ہے کہ آیا وہ مین روڈ ہے یا گلی محلوں میں بنی ہوئی اندرونی سڑک کیونکہ مرکزی شاہراہیں کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن کے ماتحت ہیں، جب کہ گلیاں اور اندرونی سڑکیں ٹاؤن میونسپل کارپوریشنز کی ذمہ داری ہیں۔

کراچی کے زمینی انتظام یا منصوبہ بندی کا اصل ذمہ دار آخر کون سا ادارہ ہے؟

 فائل فوٹو

دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ بھی ایک نہیں بلکہ پورے 25 ٹاؤنز ہیں، جن کی الگ الگ حدود، انتظامی ڈھانچے اور دائرہ اختیار متعین ہیں، ایک ہی شہر میں 25 بلدیاتی ادارے، درجنوں صوبائی و وفاقی محکمے، اور کئی عسکری تنظیمیں اپنی اپنی زمین اور حدود کی مالک ہیں۔ ان میں کراچی ڈیولپمنٹ اتھارٹی ، لیاری ڈیولپمنٹ اتھارٹی، ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی، کراچی پورٹ ٹرسٹ، پورٹ قاسم اتھارٹی ، سندھ کچی آبادی اتھارٹی، سندھ انڈسٹریل اینڈ ٹریڈنگ اسٹیٹ، بورڈ آف ریونیو سندھ، سول ایوی ایشن اتھارٹی، پاکستان ریلوے، پاکستان اسٹیل ملز، ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی، اور شہر کے چھ کینٹونمنٹ بورڈز شامل ہیں۔

یہ تمام ادارے شہر کے مختلف حصوں کے مالک ہیں، اس کے علاوہ پاک نیوی، فضائیہ اور وزارتِ دفاع کے تحت آنے والی اراضی الگ ہے، جہاں کسی سول ادارے کو مداخلت کی اجازت نہیں۔

کراچی کا مسئلہ وسائل کی کمی نہیں بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ شہر کا کوئی ایک مالک نہیں:  شہری منصوبہ بندی کے ماہر  

ایک کھانا 10 باورچی بنائیں تو اُس کا خراب ہونا یقینی ہوتا ہے، کراچی بھی “انتظامی کھچڑی” کی ایک ایسی ہی مثال ہے جہاں کوئی مرکزی اتھارٹی نہیں،  شہری منصوبہ بندی کے ماہر عارف حسن کا بھی یہی کہنا ہے کہ کراچی کا مسئلہ وسائل کی کمی نہیں بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ شہر کا کوئی ایک مالک نہیں۔ 

اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ کراچی کی زمین کا 56 فیصد صوبائی اداروں کے پاس ہے، 32 فیصد بلدیاتی اداروں کے زیر انتظام ہے، 7 فیصد عسکری ادارے کنٹرول کرتے ہیں، جب کہ وفاقی ادارے تقریباً 5 فیصد زمین کے مالک ہیں۔ حیران کن طور پر صرف 1.9 فیصد زمین نجی ملکیت میں آتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ جب کوئی ترقیاتی منصوبہ شروع ہوتا ہے تو زمین کی ملکیت اس کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بنتی ہے۔ کوئی سڑک KMC کی نہیں تو KPT کی ہے، کوئی پل DHA کے قریب ہے تو نیوی کے علاقے سے گزرتا ہے، یہی بکھرا ہوا نظام کراچی کے شہری انتظامات کو دنیا کے سب سے پیچیدہ ماڈلز میں سے ایک بناتا ہے۔

ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ کراچی کی ترقی کے لیے سب سے پہلے زمین کی ملکیت کے ریکارڈ کو یکجا کرنے کی ضرورت ہے۔

ایک ایسا مرکزی ادارہ ہونا چاہیے جو تمام زمینوں کا ڈیٹا، حدود اور ذمہ داریاں واضح کرے، اگر یہ نہ ہوا تو کراچی ہمیشہ ایک ایسے شہر کے طور پر جانا جائے گا جہاں شہر سب کا ہے لیکن مالک کوئی نہیں۔ 

کراچی میں تعمیرات کیلئے کون سے ادارے کردار ادا کرتے ہیں؟

کراچی میں رہائشی یا کمرشل پلاٹس پر تعمیرات کیلئے قانون بھی موجود ہے اور اس پر عمل کرانے والے ادارے بھی، لیکن بے لگام کرپشن کے باعث رئیل اسٹیٹ کا شعبہ تعمیر سے زیادہ، تخریب کا سبب بنا ہوا ہے، کراچی میں مختلف نوعیت کے پلاٹس پر تعمیرات کیلئے کون کون سے ادارے کردار ادا کرتے ہیں اور یہ بھی کہ ان پلاٹس پر غیرقانونی تعمیرات کیلئے کیسے اور کتنی رشوت لی جارہی ہے۔

کراچی کے زمینی انتظام یا منصوبہ بندی کا اصل ذمہ دار آخر کون سا ادارہ ہے؟

فائل فوٹو

یہ سوالات ہے تو متنازع لیکن کراچی میں رہائشی پلاٹس پر غیرقانونی تعمیرات کا جائزہ لیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ جو خطیر ریونیو قومی خزانے میں جانا چاہیے، وہ کرپشن مافیا کی جیبوں میں چلا جاتا ہے۔

شہر میں 250 گز سے لے کر 2 ہزار گز تک کے کمرشل پلاٹ کی مکمل منظوری مبینہ طور پر 2 کروڑ روپے سے 8 کروڑ کی رشوت کے عوض ہوتی ہے جبکہ تعمیرات کے دوران مبینہ طور پر متعلقہ پلاٹ کی ماہانہ رشوت ، ڈھائی لاکھ روپے سے لے کر ساڑھے 3 لاکھ روپے تک بلڈر کی جانب سے ادا کی جاتی ہے۔

قانونی طور پر رہائشی پلاٹس پر دو منزلوں کی تعمیر کی اجازت

دوسری جانب رہائشی پلاٹ پر مکان بنانے کا طریقہ کار بہت آسان ہے، سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے قانون کے مطابق رہائشی پلاٹ اگر 399 گز یا اس سے کم ہے تو اس پر گراؤنڈ پلس دو تک کی تعمیرات کرنے کی اجازت ہے، فرق صرف یہ ہے کہ دو منزل کے لیے بیٹرمنٹ چارجز کی صورت میں ادائیگی کرنی ہوتی ہے۔

مکان کی تعمیر کی قانونی طور پر کی جائے تو مبینہ رشوت ہزاروں میں ہی جاتی ہے، لیکن رہائشی پلاٹ پر غیرقانونی پورشن تعمیر کرنے ہوں تو اس کا طریقہ ذرا فنکارانہ ہے، یعنی پورشن مافیا رہائشی پلاٹ پر نقشہ تو مکان ہی کا منظور کراتی ہے، مگر رشوت دینے کے بعد جس رہائشی پلاٹ پر ایک رہائشی یونٹ بننا چاہیے وہاں کہیں چھ تو کہیں آٹھ آٹھ پورشن بنا لیے جاتے ہیں۔

قانونی طور پر399 گز کے رہائشی پلاٹ پر دو منزلوں کی اجازت ہے، مگر پورشن مافیا کی جانب سے دو اضافی منزلیں تعمیر کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔

کسی بھی عمارت کی تعمیر کے دوران ایک جانب مبینہ طور پر سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے افسران تو رشوت طلب کرتے ہی ہیں، لیکن اس گندے دھندے میں مبینہ طور پر کے ڈی اے اور کے ایم سی سمیت فارورڈنگ فراہم کرنے والے اداروں کے افسران بھی ملوث ہیں، اس کے علاوہ جعلی این او سیز، جعلی صحافی اور بعض سوشل میڈیا انفلوئنسرز بھی بلیک میلنگ کا سہارا لے کر رشوت لیتے ہیں۔

 غیر قانونی تعمیرات سے شہر کا انفرا اسٹرکچر تباہ

کراچی میں پی ای سی ایچ ایس، بہادر آباد، شرف آباد، دھوراجی ، گلشن اقبال، گلستان جوہر، ناظم آباد، نارتھ ناظم آباد، شادمان ٹاؤن، فیڈرل بی ایریا، عزیز آباد، لیاقت آباد، نارتھ کراچی، نیو کراچی اور سرجانی ٹاؤن سمیت متعدد علاقوں میں غیر قانونی تعمیرات جاری ہیں اور اس کا نتیجہ یہ ہے کہ شہر کا انفرا اسٹرکچر تباہ اور پانی اور سیورج کے سسٹم سمیت بنیادی سہولتوں کی فراہمی ناممکن ہوتی جا رہی ہے۔



Source link

DAILY MITHAN

Website: https://dailymithan.com

متعلقہ کہانی
پاکستان
پی ٹی آئی کو ایک سال پہلے الیکشن کی آفر کی بات درست نہیں، رانا ثنا اللّہ
DAILY MITHAN Jan 31, 2026
پاکستان
حکومت اور فوج کی پارٹنرشپ اسی طرح چلتی رہی تو پاکستان دینا کے نقشے پر مضبوط ملک بن کر ابھرےگا: وزیراعظم
DAILY MITHAN Jan 30, 2026
پاکستان
شوہر حق مہر میں لکھی چیزیں اہلیہ کو ادا کرنے کا پابند ہے: چیف جسٹس پاکستان
DAILY MITHAN Jan 30, 2026
پاکستان
پاک افغان سرحد کی بندش، پختونخوا کو 7 ماہ میں 4 ارب روپے کا نقصان
DAILY MITHAN Jan 30, 2026
پاکستان
2029 تک 60 ارب ڈالرز کی برآمدات کا ہدف ہے، احسن اقبال
DAILY MITHAN Jan 30, 2026
پاکستان
ایران پر حملہ پوری مسلم دنیا پر حملہ تصور ہوگا: ایرانی سفیر
DAILY MITHAN Jan 30, 2026
پاکستان
خاتون اور بچی کے سیوریج ہول میں گرنے کا واقعہ، مقامی انتظامیہ کی بے حسی سامنے آگئی
DAILY MITHAN Jan 29, 2026
پاکستان
ارب پتی ڈمپر ڈرائیور 4 ارب روپے سے زائد کی پلی بارگین کیلئے رضامند
DAILY MITHAN Jan 28, 2026
پاکستان
ججزبھی نااہل ہیں اور عدالتیں بھی مردہ ہوگئی ہیں: جسٹس محسن اختر
DAILY MITHAN Jan 28, 2026
پاکستان
صدر مملکت کی متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان سے ملاقات
DAILY MITHAN Jan 27, 2026
پاکستان
وزیر داخلہ سندھ نے ایم کیو ایم رہنماؤں سے سکیورٹی واپس لینے کی تردید کر دی
DAILY MITHAN Jan 27, 2026
پاکستان
ایم کیو ایم پاکستان کے اہم وزرا کی سیکیورٹی واپس لے لی گئی
DAILY MITHAN Jan 27, 2026
پاکستان
سندھ کے تفریحی مقام گورکھ ہل اسٹیشن پر برفباری، درجہ حرارت منفی 2 ڈگری تک گرگیا
DAILY MITHAN Jan 27, 2026
پاکستان
وادی تیراہ سے انخلا کی خبروں کو فوج سے جوڑنا غلط بیانی ہے، صوبائی حکومت عوام کی بہتری پر توجہ دے: عطا تارڑ
DAILY MITHAN Jan 27, 2026
پاکستان
پولیس موبائل پردہشتگردوں کا حملہ، جوابی کارروائی میں 2 دہشتگرد ہلاک
DAILY MITHAN Jan 26, 2026
پاکستان
وادی تیراہ سے لوگوں کی نقل مکانی کیوں ہورہی صوبائی حکومت اسکا جواب دے: احسن اقبال
DAILY MITHAN Jan 25, 2026
پاکستان
ریسکیو آپریشن کے دوران تیسرے فلور سے مزید انسانی باقیات برآمد
DAILY MITHAN Jan 25, 2026
پاکستان
حکومت کی وادی تیراہ کو فوجی احکامات پر خالی کرانےکی خبروں کی تردید، دعوے من گھڑت اور بے بنیاد قرار
DAILY MITHAN Jan 25, 2026
پاکستان
کراچی کے 3 اضلاع میں عمارتوں کا سروے، 90 فیصد عمارتوں میں آگ سے بچاؤ کے انتظامات نہ ہونے کا انکشاف
DAILY MITHAN Jan 24, 2026
پاکستان
خیبرپختونخوا میں اتوارکی رات سے مزید بارش اور برفباری کی پیشگوئی، الرٹ جاری
DAILY MITHAN Jan 24, 2026

Leave a Reply
Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

حالیہ نیوز
پاکستان
کراچی کے زمینی انتظام یا منصوبہ بندی کا اصل ذمہ دار آخر کون سا ادارہ ہے؟
DAILY MITHAN Jan 31, 2026
پاکستان
پی ٹی آئی کو ایک سال پہلے الیکشن کی آفر کی بات درست نہیں، رانا ثنا اللّہ
DAILY MITHAN Jan 31, 2026
پاکستان
حکومت اور فوج کی پارٹنرشپ اسی طرح چلتی رہی تو پاکستان دینا کے نقشے پر مضبوط ملک بن کر ابھرےگا: وزیراعظم
DAILY MITHAN Jan 30, 2026
پاکستان
شوہر حق مہر میں لکھی چیزیں اہلیہ کو ادا کرنے کا پابند ہے: چیف جسٹس پاکستان
DAILY MITHAN Jan 30, 2026