افغان طالبان کی اعلیٰ قیادت میں سخت اندرونی اختلافات منظر عام پر آئے ہیں اور یہ کہا جارہا ہے کہ افغانستان کی طالبان حکومت اب عملی طور پر دو دھڑوں میں تقسیم ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارے (بی بی سی) کی ایک حالیہ تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق طالبان کے سربراہ ہیبت اللہ اخوندزادہ کی ایک لیک ہونے والی آڈیو کلپ میں انہیں متنبہ کرتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ اندرونی تقسیم کے نتیجے میں اسلامی امارت کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔
بی بی سی کے مطابق طالبان قیادت دو واضح دھڑوں میں منقسم ہے۔ قندھار میں موجود گروہ کی قیادت ہیبت اللہ اخوندزادہ کے ہاتھ میں ہے جو ایک سخت گیر اسلامی امارت کے قائل ہیں۔
ان کا تصور ایک ایسے نظام کا ہے جو جدید دنیا سے کٹا ہوا ہو، جہاں مذہبی شخصیات کے ذریعے معاشرے پر مکمل کنٹرول قائم رکھا جائے۔ اس دھڑے میں خواتین کی تعلیم اور ملازمت کی سخت مخالفت کی جاتی ہے اور جدید ٹیکنالوجی خصوصاً انٹرنیٹ کو اسلامی اقدار کے لیے خطرہ سمجھا جاتا ہے۔ اخوندزادہ نے قندھار کو طاقت کا مرکز بنا کر سکیورٹی فورسز اور اسلحے کی تقسیم جیسے اہم فیصلے بھی کابل سے اپنے ہاتھ میں لے لیے ہیں۔
اس کے برعکس کابل میں موجود دھڑا نسبتاً عملیت پسند سمجھا جاتا ہے جس میں وزیر داخلہ سراج الدین حقانی، وزیر دفاع ملا یعقوب اور نائب وزیراعظم عبدالغنی برادر جیسے طاقتور رہنما شامل ہیں۔
یہ گروہ افغانستان کے لیے خلیجی ریاستوں جیسا ماڈل چاہتا ہے جو اسلامی شناخت کے ساتھ ساتھ معاشی طور پر فعال ہو اور عالمی برادری سے تعلقات رکھتا ہو, ان رہنماؤں کا ماننا ہے کہ تجارت، سفارت کاری اور ریاستی نظم و نسق کے بغیر ملک چلانا ممکن نہیں یہی وجہ ہے کہ یہ گروہ جدید ٹیکنالوجی اور محدود دائرے میں لڑکیوں کی تعلیم کی حمایت بھی کرتا ہے۔
بی بی سی کی رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ہیبت اللہ اخوندزادہ کا کردار وقت کے ساتھ نمایاں طور پر بدل چکا ہے۔ 2016 میں انہیں ایک ایسے مذہبی عالم کے طور پر منتخب کیا گیا تھا جو مختلف دھڑوں کے درمیان اتفاق پیدا کر سکیں، مگر اقتدار میں آنے کے بعد وہ ایک آمر حکمران بن گئے۔
رپورٹ میں ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ وہ اجلاسوں میں کم ہی بولتے ہیں، عوام میں چہرہ چھپاتے ہیں، انہوں نے سراج حقانی اور ملا برادر جیسے بااثر رہنماؤں کو آہستہ آہستہ اختیارات سے محروم کیا اور خواتین کی تعلیم جیسے فیصلے کابل کابینہ سے مشاورت کے بغیر نافذ کیے۔
دوسری جانب کابل کی قیادت نے اپنی عوامی شبیہ بہتر بنانے کی کوششیں تیز کر دیں۔ خاص طور پر سراج الدین حقانی نے، جو کبھی ایف بی آئی کی مطلوب افراد کی فہرست میں شامل تھے، اب خود کو ایک ریاستی رہنما کے طور پر پیش کرنے لگے۔ 2024 کے بعد انہوں نے مغربی میڈیا کو انٹرویوز دیے اور ٹی وی اور سوشل میڈیا جیسے ذرائع کو استعمال کیا تاکہ نوجوان افغانوں میں مقبولیت حاصل کی جا سکے۔
بی بی سی کے مطابق طالبان کے اندرونی اختلافات ستمبر 2025 میں فیصلہ کن موڑ پر پہنچے جب قندھار سے ملک بھر میں انٹرنیٹ اور فون سروس بند کرنے کا حکم جاری ہوا۔
ہیبت اللہ اخوندزادہ انٹرنیٹ کو غیر اسلامی مواد کا ذریعہ سمجھتے ہیں، مگر کابل قیادت کے لیے یہ حکم ناقابلِ قبول تھا کیونکہ حکمرانی، تجارت اور اثر و رسوخ کا بڑا حصہ انٹرنیٹ پر منحصر ہے۔
عبدالغنی برادر نے اس سے قبل قندھار جا کر سپریم لیڈر کے قریبی حلقوں کو خبردار کیا تھا کہ انہیں حالات کی سنگینی سمجھنی چاہیے، مگر ان کی بات نظرانداز کر دی گئی۔ 29 ستمبر کو انٹرنیٹ سروس بند کی گئی، لیکن تین دن بعد انٹرنیٹ بحال کر دیا گیا جسے ماہرین طالبان کی تاریخ میں ایک غیر معمولی بغاوت قرار دیتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ بات قابلِ غور ہے کہ کابل گروپ نے لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی جیسے معاملات پر کبھی کھل کر حکم عدولی نہیں کی مگر انٹرنیٹ بندش نے ان کے مفادات، مراعات اور مالی ذرائع کو براہِ راست خطرے میں ڈال دیا جس پر وہ خاموش نہ رہ سکے۔
بی بی کا کہنا ہے کہ 2026 کے آغاز تک صورتحال بظاہر قابو میں ہے، مگر تناؤ برقرار ہے۔ قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں کہ کابل کے وزرا کو سزا دی جائے گی، تاہم اطلاعات کے مطابق ہیبت اللہ اخوندزادہ نے ممکنہ تقسیم کے خوف سے کسی سخت اقدام سے گریز کیا۔ سرکاری ترجمان اختلافات کو محض ’رائے کے فرق‘ یا ’خاندانی نوعیت کے معاملات‘ قرار دیتے ہیں، مگر حقیقت میں نظریاتی جنگ اب خطابات اور بیانات کے ذریعے جاری ہے۔























Leave a Reply