سابق وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو شہید اور بانی متحدہ قومی موومنٹ الطاف حسین دونوں ہی سیاسی طور پر ایک دوسرے کے قریب آنا چاہتے تھے جس کے لیے 1987ء کے بلدیاتی انتخابات سے پہلے ایک سنجیدہ کوشش بھی ہوئی مگر بدقسمتی سے ’کچھ قوتوں‘ نے ایسانہ ہونے دیا اور اس میں ایک رکاوٹ خود پی پی پی کے اردو بولنے والے بعض رہنما بھی تھے۔
یہ ابتدا تھی، اس وقت 90عزیز آباد اور 70کلفٹن کے درمیان دوریوں کی ورنہ تو محترمہ نے ایک سال قبل پاکستان واپسی سے پہلے ہی کراچی سینٹرل جیل میں موجود پی پی پی کے کچھ رہنماؤں کو یہ پیغام دیا تھا کہ ایم کیو ایم کے دوستوں کا ’خیال رکھنا‘ ہمیں ملکر ساتھ چلنا ہے۔
یہ ان دنوں کی بات ہے جب الطاف حسین جیل میں تھے، آج نہ وہ پی پی پی ہے اور نہ وہ ایم کیو ایم، ایک سندھ تک محدود اور دوسری فارم۔47 پر چل رہی ہے، اصل کہانی کیا ہے اور یہ مسئلہ کیسے حل ہوسکتا ہے۔
اپریل 1986 میں بی بی واپس آئیں تو انکا تاریخی استقبال دیکھ کر ضیاء کے ایوانوں میں کھلبلی مچ گئی، محترمہ جہاں جہاں جاتیں لاکھوں لوگ استقبال کیلئے موجود ہوتے، جنرل ضیاء نے بی بی کو روکنے کی بڑی کوشش کی مگر اس وقت کے وزیرداخلہ چوہدری شجاعت حسین نے فورس استعمال کرنے سے انکار کردیا حالانکہ وزیراعلیٰ پنجاب میاں نواز شریف تیار تھے۔
دوسری طرف آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل حمید گل نے یہ ’بیانیہ‘ بنایا کہ فوج کے اندر بے چینی ہے کہ محترمہ کے عزائم ان جرنیلوں کیخلاف ہیں جنہیں وہ بھٹو کی پھانسی کا ذمہ دار سمجھتی ہیں اور اقتدار میں آنے کے بعد ’انتقام‘ لے سکتی ہیں۔
لہٰذا پنجاب میں ’جاگ پنجابی جاگ‘ جیسا بیانیہ سامنے لایا گیا جبکہ سندھ میں ذوالفقار علی بھٹو کے زمانے میں ہونیوالے لسانی فسادات کو دوبارہ اٹھانے کی کوشش کی گئی جس کی ابتدا ’کوٹہ سسٹم‘ جس کی میعاد 1984ء میں ختم ہونیوالی تھی اس کو 10سال کی توسیع دیکر کی گئی۔
مہاجر قومی موومنٹ کی تشکیل کی پس پردہ حمایت کی گئی اور محترمہ کی واپسی کے چند ماہ بعد ہی اگست،1986 میں کراچی کے نشتر پارک میں ایم کیو ایم کے جلسے نے سب کو ہی حیران کر دیا، مذہبی سیاسی جماعتوں کو تو 1985کے غیرجماعتی بنیادوں پر ہونیوالے الیکشن میں کراچی، حیدرآباد میں شکست سے ہی اندازہ ہوگیا تھا مگر اس جلسے نے واضح پیغام دے دیا۔
اہم بات یہ ہے کہ الطاف حسین کی اس تقریر کا محور سندھی، مہاجر اتحاد تھا اور ٹارگٹ ’پنجاب‘ یعنی ’وفاق‘ آپ میں سے بہت سوں کو تو یاد ہوگا کہ اُس نے پی آئی اے کے جہاز کے اس وقت جلسے کے اوپر سے گزرتے وقت کیا کہا تھا، اس جلسے کے بعد سائیں جی ایم سید اور الطاف حسین قریب آئے جس میں متحدہ کے اختر رضوی مرحوم نے اہم کردار ادا کیا اور پھر اچانک اس اتحاد کو کیسے تقسیم کیا گیا، اس کے بارے میں خود اس وقت کے وزیراعلیٰ سید غوث علی شاہ بہتر بتا سکتے ہیں جن سے ’سہراب گوٹھ‘ آپریشن رکوایا گیا۔
تاہم ایم کیوایم کو اب بھی اپنی سیاسی مقبولیت کا صحیح اندازہ نہیں تھا اور جب 1987ء میں بلدیاتی الیکشن کا اعلان ہوا تو الطاف حسین نے بی بی سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی کیونکہ اس وقت ان کا ہدف جماعت اسلامی کو شکست دینا تھا، تاہم پی پی پی کے بعض اردو بولنے والے رہنماؤں کے نزدیک الطاف محض ایک طلبہ رہنما تھے اور انکی جماعت کوئی بڑی جماعت نہیں تھی۔
بدقسمتی سے ایم کیو ایم۔ پی پی پی کا بلدیاتی انتخابات پر اعتماد نہ ہوسکا اور پی پی پی جس کو 1979ء اور 1983ء میں بلدیاتی الیکشن میں ’عوام دوست‘ کے نام پر بڑی کامیابی ملی تھی وہ پر اعتماد تھی آئندہ کے میئر کیلئے مگر ایم کیو ایم نے سب کا ہی صفایا کردیا، بی بی نے اس کے فوراً بعد پارٹی کے کراچی کے رہنماؤں کی اچھی خاصی کلاس لی۔
بات یہیں ختم نہیں ہوئی اور اس کیلئے 1988ء کے انتخابات اور اس سے پہلے ہونیوالے واقعات کا جائزہ لینا بہت ضروری ہے، پنجاب میں پی پی پی اور بی بی کی مقبولیت کو روکنے کیلئے اسلامی جمہوری اتحاد( آئی جے آئی) جنرل حمید گل نے تشکیل دیا اور میاں صاحب کے سربراہ بننے کا مقصد پنجاب آئی جے آئی کو دینا تھا۔ سندھ میں ایک خونیں کھیل کھیلا گیا اور الیکشن سے کچھ پہلے حیدرآباد میں 30ستمبر 1988ء کو سرعام150لوگوں کو جن میں اکثریت اردو بولنے والوں کی تھی ہلاک کردیا گیا۔
ردعمل کے طور پر سندھی بولنے والوں کو ٹارگٹ کرکے ہلاک کیا گیا، یہ مقدمہ بھی چلا اور ملزمان بری بھی ہوگئے مگر سوال اپنی جگہ موجود ہےکہ اصل قاتل کون تھا تفتیش کیوں نہیں دوبارہ ہوئی، 1988ء کے انتخابات ہوئے تو سندھ واضح طور پر پی پی پی اور ایم اکیو ایم میں تقسیم ہوگیا، اس پس منظر کے باوجود دونوں جماعتوں میں ایک تحریری معاہدہ ہوا تاہم آنے والے واقعات بتاتے ہیں کہ نہ بی بی کو وفاق میں وزیراعظم کے طور پر تمام تر سمجھوتے کے باوجود قبول کیا گیا اور نہ ہی پی پی پی، ایم کیو ایم معاہدے کو۔
سارا کھیل اس وقت کے ایوان صدر میں کھیلا جارہا تھا جب 1989ء میں بی بی کیخلاف عدم اعتماد کی تحریک لائی گئی تو انہی قوتوں نے ایم کیو ایم کے ووٹ لینے کیلئے نوازشریف اور الطاف کا معاہدہ کروایا جو شاید الطاف حسین کی سب سے بڑی سیاسی غلطی تھی، عدم اعتماد کی تحریک کو شکست ہوئی تو بی بی کو سب سے زیادہ مایوسی ایم کیو ایم کے رویے پر تھی۔
1990ء میں بی بی کی حکومت ختم ہوگئی اور ایک دھاندلی شدہ انتخابات کے بعد مسلم لیگ کی حکومت قائم ہوئی جس میں ایم کیو ایم کو بھی حصہ ملا مگر یہ’’ہنی مون‘‘ جلد ختم ہوگیا اور 1992ء میں ایم کیو ایم کیخلاف آپریشن شروع ہوگیا، اب متحدہ نہ پی پی پی کے ساتھ جا سکتی تھی نہ ہی مسلم لیگ کے ساتھ۔ یہ ابتدا تھی ایم کیو ایم کے خاتمے کی جس میں 1994ء کا آپریشن 1998ء کا گورنر راج اور آخر میں 2013ء کا آپریشن، جنرل پرویز مشرف نے کچھ کچھ سہارا دیا مگر اب ایم کیو ایم کی واپسی تقریباً ناممکن ہے۔
اس تمام عرصے میں پی پی پی بھی وفاق کی سطح پر محترمہ کی شہادت کے بعد اپنی وفاقی ساکھ برقرار نہ رکھ سکی اور2008 میں کامیابی کے باوجود 2013 کے بعد سے پنجاب اور کے پی میں فارغ ہوگئی جبکہ بلوچستان میں فارم47پر حکومت کر رہی ہے۔
سندھ کا مسئلہ لسانی نہیں ’سیاسی ہے، پی پی پی اور ایم کیو ایم کے اختلافات کو اردو اور سندھی بولنے والوں کے اختلافات نہیں کہا جا سکتا تاہم اس کو ’ہوا‘ دینے کا مقصد اپنی اپنی نااہلیوں پر پردہ ڈالنا ہے۔
سندھ حکومت کی کارگردگی پر سنجیدہ سوالات ہیں، کرپشن اپنے عروج پر ہے، خراب گورننس سامنے نظر آتی ہے، حل18 ویں ترمیم نے دیا ہے اور وہ ہے مضبوط ، مکمل بااختیار مقامی حکومتیں، کراچی میٹرو پولیٹن اورمیئر کابراہِ راست انتخاب ۔ دیگر مطالبات ہمیں صرف مزید خون خرابے کی طرف لے جائیں گے،جس کا فائدہ معذرت کیساتھ ان دو کو تو ہو سکتا ہے صوبہ سندھ کو نہیں خدا کیلئے بس کر دیں۔
جیو نیوز، جنگ گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔


























Leave a Reply