اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہےکہ حکومت پی ٹی آئی سے مذاکرات میں سنجیدہ ہے مگر یہ چار پانچ زبانیں بولتے ہیں ہم کس پر اعتبار کریں۔
قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ حکومت تحریک انصاف سے مذاکرات میں سنجیدہ ہے لیکن میں نہیں سمجھتا کہ پی ٹی آئی مذاکرات میں سنجیدہ ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ پی ٹی آئی چار پانچ زبانیں بولتی ہے، پی ٹی آئی والے فرینچ میں بات کرتے ہیں، انگلش،پنجابی اور اردو میں بات کرتے ہیں، ہم ان کی کون سی زبان سمجھیں، ، ہمیں بتائیں ہم ان کی کون سی زبان پر اعتبار کریں، خیبرپختونخواحکومت الگ اوراسمبلی میں بیٹھنےوالےالگ زبان بول رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جولوگ باہربیٹھ کر گالم گلوچ کرتے ہیں سب سے پہلے ان کی زبان بندی ضروری ہے، باہربیٹھ کر جولوگ پاکستان کےخلاف بولتے ہیں یہ ان کی مرضی سے بول رہے ہیں، باقاعدہ ایک حکمت عملی کے تحت باہر سے لوگ بیٹھ کر لوگوں کو گالیاں دے رہے ہیں۔
وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی بیک ٹریک کرنے کے لیے اور دو نمبری کرنے کے لیے اپنی اسپیس رکھنا چاہتی ہے، یہ صرف پی ٹی آئی کی نیت کا فتور ہے، پی ٹی آئی کی نیت ہو تو مذاکرات بھی ہوسکتے ہیں اور ان کا زرلٹ بھی نکل سکتاہے، تحریک انصاف کی بدنیتی ختم نہیں ہو رہی، یہ تاش کی بازی لگی ہوئی ہے اور سارے مل کر کھیل رہے ہیں۔
خواجہ آصف نے کہا کہ مجھے یہ بتائیں ایک اکثریتی پارٹی نے اپنا لیڈر آف اپوزیشن کیوں نہیں بنایا؟ محمودخان اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر بنایاگیا ہے وہ بھائی ہے اپنا اور میں محمود اچکزئی کا بڑا احترام کرتا ہوں، میرا ان کی سیاست سے اختلاف ضرور ہوسکتا ہے لیکن میرا ان سے بڑا برادرانہ تعلق ہے، بہت اچھی بات ہےکہ وہ اپوزیشن لیڈر بنےہیں میں ان کو ویلکم کرتا ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف اور شہباز شریف مجھےحق دیتے ہیں کہ میں ان سے اختلاف کرسکتا ہوں حالانکہ کوئی وزیراعظم اپنے وزرا کو یا ورکرز کو اتنی اسپیس نہیں دیتاجتنی شہبازشریف دیتے ہیں، پاکستان کی سیاست میں یہ لوگ ایک رول ماڈل ہیں۔






















Leave a Reply