جمعرات کی شب جب افغانستان اور پاکستان میں کروڑوں اہلِ ایمان مسجدوں میں نماز تراویح ادا کررہے تھے، افغان طالبان نے پاکستان کی متعدد سرحدی چوکیوں اور علاقوں پر جدید ہتھیاروں سے حملے کرکے باقاعدہ جنگ چھیڑ دی۔
افواج پاکستان نے اس کا فوری اور بھرپور جواب دیا تاہم جنگ کا سلسلہ جمعے کو ان سطور کے لکھے جانے کے وقت بھی جاری ہے، پاکستان نے زمینی لڑائی کے ساتھ ساتھ فضائی حملے بھی کیے ہیں جس پر افغان حکومت نے پاکستان کے خلاف مزید کارروائی کا اعلان کیا ہے، فی الحال یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ سلسلہ کب تک چلے گا اور اونٹ بالآخر کس کروٹ بیٹھے گا۔
طالبان حکام کے بقول جمعرات کے حملوں کا سبب اس سے دو دن پہلے پاک فضائیہ کی جانب سے افغانستان کے چار صوبوں میں سات مقامات پر کی گئی بمباری تھی، پاکستان کے مؤقف کے مطابق یہ حملے دہشت گرد تنظیموں کے ٹھکانوں پر معتبر انٹلیجنس کی بنیاد پر کیے گئے اور ٹی ٹی پی کے کم و بیش ڈیڑھ سو دہشت گرد ان کے نتیجے میں ہلاک ہوئے جس کے شواہد موجود ہیں۔
تاہم طالبان حکومت کا کہنا ہے کہ یہ حملے شہری آبادیوں پر کیے گئے اورعام لوگ ان کا نشانہ بنے، تاہم افغانستان میں دہشت گرد تنظیموں کی فعال موجودگی کی بات پاکستان کا کوئی بے بنیاد پروپیگنڈا نہیں بلکہ اس کی تصدیق عالمی اداروں اور اقوام متحدہ کی حالیہ رپورٹوں میں بھی کی گئی ہے لہٰذا ضروری ہے کہ کابل اس حوالے سے ذمے دارانہ طرزعمل اپنائے۔
اس صورت حال کے پس منظر پر نگاہ ڈالیں تو یہ حقائق سامنے آتے ہیں کہ افغانستان کے خلاف سوویت یونین اور پھر امریکی فوج کشی کے چالیس برسوں میں پاکستانی قوم نے پچاس لاکھ افغان مہاجرین کی جس درجہ اپنائیت، اخلاص اور اخوت و محبت کے ساتھ میزبانی کی، سوچا بھی نہیں جاسکتا تھا کہ بیرونی جارحیت کے خلاف مزاحمت کی کامیابی کے بعد تحریک طالبان پاکستان اس کا صلہ مسلسل دہشت گردی، خود کش حملوں،بم دھماکوں اور بین الاقوامی سرحد کو تسلیم نہ کرتے ہوئے پاکستان کے وسیع علاقوں پر اپنے دعووں کی شکل میں دے گی۔
یہ تصور بھی ممکن نہیں تھا کہ بیرونی جارحیت کے دوران میں افغان تحریک مزاحمت کی کھلی مخالفت اور بیرونی جارح قوتوں کی برملا حمایت کرنے والے بھارت کو طالبان حکمراں اپنا ملجا و ماویٰ بنا کر مسلم دشمن مودی سرکار کی گود میں جابیٹھیں گے اور بھارت نوازی میں اس حد تک گرجائیں گے کہ کشمیر کو بھارت کا حصہ قرار دے کرشہدائے کشمیر کے خون سے غداری کرنے میں بھی انہیں کوئی عار نہ ہوگا۔
بہرکیف احسان فراموشی کا نہایت افسوسناک مظاہرہ کرتے ہوئے افغان حکمراں پاکستان میں دہشت گردی کی ذمے دار تحریک طالبان پاکستان کے محفوظ ٹھکانوں کو ختم کرنے اور سرحد پارسے آکر پاکستان میں مسلسل دہشت گردی کرنے والے مجرموں کو روکنے کی کوئی مؤثر کوشش کرنے میں ناکام رہے۔
حکومت پاکستان کی بار بار کی درخواستوں کے جواب میں صرف زبانی وعدے کیے جاتے رہے لیکن عملی صورت حال جوں کی توں رہی بلکہ روز بروز بد سے بدتر ہوتی چلی گئی، جس کی بنا پر پاکستان کے پاس افغانستان کے اندر موجود دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر براہ راست کارروائی کے سوا کوئی راستہ باقی نہیں رہا۔
تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ دونوں ہمسایہ ملکوں کے درمیان مستقل کشیدگی دونوں ہی کیلئے سخت نقصان دہ ہے، پاکستان اور افغانستان دونوں معاشی مشکلات سے دوچار ہیں جن پر قابو پانے کیلئے پائیدار امن وامان ناگزیر ہے۔
نیز ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کسی بھی لمحے بھرپور جنگ میں بدل سکتی ہے جس کے سخت مضر اثرات خطے کے تمام ملکوں پر پڑیں گے، جنیوا مذاکرات کے نتیجے میں اگر فی الوقت ایران پر امریکی حملے کا خطرہ ٹل بھی گیا تب بھی حالات کے ازسرنو خراب ہونے کا تقریباً یقینی خدشہ بہرحال موجود رہے گا۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ گریٹر اسرائیل کی راہ میں بہت بڑی رکاوٹ ایران کی موجودہ حکومت اسرائیل اور امریکا دونوں ہی کیلئے ناقابل برداشت ہے لہٰذا اسے ختم کرنے کی کارروائیاں مختلف شکلوں میں جاری رکھے جانے کا قوی امکان ہے۔
خدا کرے ایران اپنی سالمیت اور سلامتی کے تحفظ میں کامیاب رہے لیکن خدا نخواستہ ایسا نہ ہوا تو پاکستان اور افغانستان پر لازماً اس کے شدید منفی اثرات مرتب ہوں گے، اس بنا پر دونوں ملکوں کو اپنے باہمی تعلقات بہتر بنانے اور جنگ کی صورتحال پر بلاتاخیر قابو پانے کی ہر ممکن تدبیر کرنا ہوگی۔اس کیلئے دونوں جانب سے بات چیت کے دروازوں کا کھلا رکھا جانا ضروری ہے۔
پوری مسلم دنیا کیلئے ایک تازہ اور خطرناک پیش رفت نریندر مودی کے دورہ اسرائیل کی شکل میں ہوئی ہے، غزہ کے پون لاکھ شہریوں کے قاتل اور گریٹر اسرائیل کے قیام کو اپنا روحانی مشن قرار دینے والے نیتن یاہو نے مودی کے دورے سے عین پیشتر بھارت اسرائیل گٹھ جوڑ کے ذریعے پوری عرب اور مسلم دنیا پر تسلط کے عزائم کا کھلا اظہار کیا ہے۔
مودی کے دورے میں دونوں ملکوں کے درمیان سائنس و ٹیکنالوجی اور تجارت وغیرہ کے علاوہ دفاعی اور تزویراتی تعاون کے نہایت اہم معاہدے بھی ہوئے ہیں، کم از کم اس پیش رفت کے بعد تحریک طالبان افغانستان کو-جسکے بارے میں یہ تاثر عام ہے کہ اس کی قیادت علمائے دین کے ہاتھوں میں ہے۔
سوچنا چاہیے کہ سرزمین حرم کے بعض حصوں سمیت نیل سے فرات تک متعدد مسلم ملکوں پر قابض ہونے کا خواب دیکھنے والے مسلمانوں کے بدترین دشمن اسرائیل سے بھارت کے گٹھ جوڑ کے بعد جس کا ایک بڑا ہدف یقینی طور پر پوری مسلم دنیا کی واحد جوہری طاقت پاکستان ہے، کیا افغانستان کابھارت کی متعصب مسلم دشمن مودی حکومت سے یارانہ قرآنی تعلیمات کے مطابق ہے؟
کیا پاکستان کے مقابلے میں بھارت سے دوستی کا رویہ قرآن کی تیسری سورۃ کی اٹھائیسویں آیت کی اس ہدایت سے کھلی روگردانی نہیں کہ ’’مومنوں کو چاہیے کہ اہل ایمان کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا رفیق اور دوست ہرگز نہ بنائیں، جو ایسا کرے گا، اس کا اللہ سے کوئی تعلق نہیں‘‘۔ کیا افغانستان کے بارے میں بھارت اور اسرائیل کے ناپاک اتحاد کا تیسرا شریک ہونے کا تاثر افغان قیادت کیلئے باعث ِ عزت افزائی ہے؟
جیو نیوز، جنگ گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔


























Leave a Reply