اسلام آباد: پاکستان اسٹیل ملز سے متعلق قومی اسمبلی کی ذیلی کمیٹی صنعت و پیداوار کے اجلاس کو حکام نے بتایا کہ اسٹیل ملز کی 11 کے وی کی بجلی کی تاریں تک چوری ہو چکی ہیں، چوری کے بڑھتے خطرات کے باعث بعض اثاثے نیلام کیے جا رہے ہیں۔
ایڈیشنل سیکرٹری صنعت و پیداوار نےقومی اسمبلی کی ذیلی کمیٹی صنعت و پیداوار کے اجلاس میں بتایا کہ اثاثے چوری ہونے سے بچانےکے لیے ایسی اشیاء نیلام کی جارہی ہیں جن کے چوری ہونےکا خطرہ ہے، 11کے وی کی تاریں تک چوری ہوچکی ہیں ۔
ایڈیشنل سیکرٹری نےکمیٹی کو بتایا کہ 2010 میں اسٹیل ملز میں 30 ہزار ملازمین تھے جب کہ 5 ہزار ملازمین سے کام چل سکتا تھا، جولائی 2024 سے ڈیلی ویجز اور کنٹریکٹ ملازمین کے کنٹریکٹ ختم کر دیےگئے اور ان میں سے 85 فیصدکو گھوسٹ ملازمین قرار دیا گیا تھا، عدالت نے نکالےگئے ملازمین کی فہرست طلب کر رکھی ہے۔
اجلاس میں یہ انکشاف بھی ہوا کہ اسٹیل ملزبندہونےکے باوجود بجلی کا ساڑھے 27 کروڑ روپے کا بل موصول ہوا،گزشتہ ماہ اڑھائی کروڑ روپے ادا کیےگئے۔
اسٹیل ملز حکام نے اجلاس کوبتایا کہ روس اسٹیل ملز کی بحالی میں دلچسپی رکھتا ہے اور سرمایہ کاروں سے بات چیت جاری ہے، سرمایہ کاری کا معاملہ طے ہوتے ہی کام شروع کردیا جائےگا۔


























Leave a Reply