پاکستان، سعودیہ اور ترکیے نے دفاعی معاہدے کا مسودہ تیار کرلیا ہے، وزیر دفاعی پیداوار رضا حیات ہراج


پاکستان، سعودیہ اور ترکیے نے دفاعی معاہدے کا  مسودہ تیار کرلیا ہے، وزیر دفاعی پیداوار رضا حیات ہراج

فوٹو: فائل

اسلام آباد:  وفاقی وزیر برائے دفاعی پیداوار  رضا حیات ہراج کا کہنا ہےکہ پاکستان، سعودی عرب اور  ترکیے  نے تقریباً  ایک سال کی بات چیت کے بعد  دفاعی معاہدے کا ایک مسودہ تیار کرلیا ہے۔

برطانوی خبر ایجنسی سےگفتگو کرتے ہوئے  رضا حیات ہراج کا کہنا تھا کہ  تینوں علاقائی طاقتوں کے درمیان  یہ ممکنہ معاہدہ گزشتہ سال اعلان کیےگئے پاکستان اور سعودی عرب کے دو طرفہ  معاہدے سے الگ ہے۔ ان کے مطابق  معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے تینوں ممالک کے درمیان مکمل اتفاق رائے ضروری ہے۔

  وفاقی وزیر برائے دفاعی پیداوار کا کہنا تھا کہ پاکستان، سعودی عرب  اور ترکیے کا سہ فریقی معاہدہ اس وقت پائپ لائن میں ہے۔ اس معاہدے کا مسودہ ہمارے پاس موجود ہے، یہی مسودہ سعودی عرب کے پاس بھی ہے اور ترکیے کے پاس بھی دستیاب ہے، تینوں ممالک  اس پر غور و خوض کر رہے ہیں۔

برطانوی خبر ایجنسی کے مطابق یہ پیشرفت اس بات کی علامت ہو سکتی ہے کہ تینوں ممالک گزشتہ  دو برسوں میں خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور تشدد کے خدشات کے پیش نظر باہمی تعاون کو مضبوط بنانا چاہتے ہیں۔

دوسری جانب استنبول میں ایک پریس کانفرنس کے دوران جب ترک وزیر خارجہ  حاقان فیدان سے  تینوں ممالک کے درمیان مذاکرات سے متعلق میڈیا رپورٹس کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے تصدیق کی کہ بات چیت ضرور ہوئی ہے تاہم ابھی تک کوئی معاہدہ طے نہیں پایا۔

ترک وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ خطے میں بداعتمادی کو ختم کرنے کے لیے وسیع تر علاقائی تعاون اور اعتماد کی ضرورت ہے، کیونکہ یہی بداعتمادی ایسے مسائل پیدا کرتی ہے جو بیرونی طاقتوں کے اثر و رسوخ، جنگوں یا دہشت گردی سے جنم لینے والی عدم استحکام کا باعث بنتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ  ان تمام مسائل کے بعد ہمارے پاس ایک تجویز ہے کہ تمام علاقائی ممالک کو  سکیورٹی کے معاملے  پر ایک مشترکہ تعاون کے پلیٹ فارم پر اکٹھا ہونا چاہیے، اگر متعلقہ ممالک ایک دوسرے پر اعتماد کریں تو علاقائی مسائل حل کیے جاسکتے ہیں۔

چند روز قبل امریکی جریدے بلوم برگ نے دعویٰ کیا تھا کہ ترکیے نے پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی اتحاد میں شامل ہونے کی خواہش ظاہر کی ہے۔

بلوم برگ کا کہنا تھا کہ  پاکستان، ترکیے اور سعودی عرب کے دفاعی اتحاد سے مشرق وسطیٰ  اور اس سے بہت آگے تک طاقت کا توازن تبدیل ہوجائےگا۔

واضح رہے کہ پاکستان اور سعودی عرب نے گزشتہ برس مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے جس میں لکھا گیا تھا کہ کسی ایک ملک کے خلاف جارحیت دونوں ملکوں کے خلاف جارحیت تصور کی جائے گی،  یہ بات نیٹو اتحاد کے آرٹیکل پانچ کی طرح ہے۔



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *