امیدیں، توقعات اور خواب سب ٹوٹ گئے، آئی سی سی کرکٹ ایونٹ میں گرین شرٹس ایک بار پھر خالی ہاتھ ہی گھر لوٹ گئے۔
2023 کے بعد تین سال کے دوران یہ چوتھا موقع ہے کہ آئی سی سی کی سطح پر منعقد ہونیوالے ٹورنامنٹ میں پاکستان ٹیم آخری چار ٹیموں میں جگہ نا بناسکی۔ بھارت میں 2023 میں آئی سی سی ون ڈے ٹورنامنٹ میں بابر اعظم کی قیادت میں پاکستان ٹیم گروپ مرحلے تک محدود رہی۔ 2024 میں امریکا اور ویسٹ انڈیز میں منعقد آئی سی سی ٹی 20 ورلڈ کپ میں پاکستان ٹیم ایک مرتبہ پھر بابر اعظم کی قیادت میں پہلے ہی راؤنڈ سے باہر ہو گئی۔
2025 میں پاکستان یواے ای میں ہونیوالے آئی سی سی چیمپئینز ٹرافی میں وکٹ کیپر بیٹر محمد رضوان کی قیادت میں قومی ٹیم کا سفر گروپ مرحلے سے آگے نا بڑھ سکا اور اب اس سلسلے میں سری لنکا اور بھارت میں آئی سی سی ٹی 20ورلڈ کپ 2026 نیا اضافہ ہے۔ جب قومی ٹیم پہلے ہی راؤنڈ میں ایونٹ سے آؤٹ ہوگئی۔
ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 میں دائیں ہاتھ کے بیٹر صاحبزادہ فرحان جن کا یہ پہلا آئی سی سی ٹورنامنٹ تھا، انھوں نے غیر معمولی کھیل پیش کیا۔ چارسدہ سے تعلق رکھنے والے 29سال کے اس بلے باز نے 7 میچوں کی 6 اننگز کے دوران 239 گیندوں پر 160.25کے اسٹرائیک ریٹ سے کھیلتے ہوئے 2 سنچریوں اور 2 نصف سنچریوں کی مدد سے 383رنز اسکور کیے۔
اس کے برعکس ٹی 20 میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے بابر اعظم اپنی ناقص پرفارمنس کے سبب قومی ٹیم کی بیٹنگ لائن اپ پر بوجھ بن گئے۔ 6میچوں کی 4اننگز میں 91 رنز بنانے پر کوچ مائیک ہیسن کو انھیں سری لنکا کے مقابلے پر ٹیم سے ڈراپ کرنا پڑا۔ کپتان سلمان علی آغا جن کا تین سال میں پاکستان کیلئے یہ تیسرا اور بطور کپتان پہلا آئی سی سی ایونٹ تھا۔
انھوں نے تو بطور بلے باز اور فیلڈ میں بطور کپتان آنسوؤں سے ہی رلا دیا۔ شاداب خان نے ایونٹ میں کمزور امریکا،نمبیا اور نیدر لینڈز کے خلاف کوٹے کے چار اوورز کیے، البتہ بھارت،انگلینڈ اور سری لنکا کے خلاف ان کے ہاتھوں کے طوطے ہی اڑ گئے۔ صائم ایوب نے تو قسم کھا رکھی تھی کہ وہ بیٹنگ میں نہیں چل کر دیں گے۔ بولنگ پر ان کو کتنا کھلاتے تو مجبوراً سری لنکا کے خلاف انھیں باہر بٹھایا گیا۔
شاہین شاہ آفریدی کی فٹنس پر سب نے سوال کیا اور پاکستان کیلئے ٹیسٹ، ون ڈے اور ٹی 20 میں وکٹوں کی سنچری مکمل کرنے والے بائیں ہاتھ کے تیز بولر نے ایونٹ میں 10.52کے اکانومی سے رنز دے کر ثابت کردیا۔ کہ اب ٹی 20 میں ان کو آرام کروانا ہی وقت کا تقاضہ ہے۔
پاکستان نے 2023 سے 2026 کے عرصے میں جو چار آئی سی سی ایونٹ کھیلے ۔ اس میں بابر اعظم ،فخر زمان ، شاہین آفریدی، محمد نواز اور شاداب خان وہ 5 کھلاڑی ہیں جنھوں نے ہر ایونٹ میں شرکت کی۔ البتہ کارکردگی کی بات کریں تو ایک سے بڑھ کر ایک فلاپ پرفارمنس کے علاوہ کچھ دکھائی نہیں دے رہا۔ ان بڑے نام کے کرکٹرز کے کھاتے میں۔
پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کرکٹرز، تجزیہ کار اور کرکٹ پنڈتوں نے شکست پر اپنے اپنے انداز میں خیالات کا اظہار کیا لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہمارے کھلاڑیوں کی نا فٹنس ہے اور پرفارمنس صفر ہے اور فوکس تو نا ہونے کے برابر ہے۔انتہائی افسوس کیساتھ لکھنا پڑ رہا ہے کہ ہمارے کھلاڑی اب خود کو کھیل سے بڑا سمجھنے لگے ہیں، لاکھوں روپے کے سینٹرل کنٹریکٹ، پرکشش میچ فیس اور کروڑوں روپے کے لیگ معاہدوں نے ان کھلاڑیوں کو اس حد تک خراب کردیا ہےکہ کھیل کے سوا ان کھلاڑیوں کو سب کچھ کرنا آتا ہے۔
ناقص پرفارمنس پر ٹیلی وژن اور سوشل میڈیا پر ہونے والی تنقید برداشت نا کرنے والے کرکٹرز کا رہا سہا دماغ ان کے منیجرز نے بگاڑ دیا ہے، ہمارے کھلاڑی گراؤنڈ میں پرفارمنس پیش کرنے کے بجائے میڈیا مہم سے ہیرو بننے کے سپنے دیکھنے لگے ہیں۔
سوشل میڈیا پر ان کھلاڑیوں کے اکاؤنٹ سے آپ کو ہر موضوع پر خیالات کا اظہار ملے گا لیکن اگر نہیں ملے گا تو گراؤنڈ میں ان سے پرفارمنس۔ دو چار لگاتار میچ کھیلنے پر ان کی فٹنس کی قلعی کھل کر سامنے آ جاتی ہے۔ فٹنس ٹیسٹ دیتے وقت ان کے بہانے ختم نہیں ہوتے اور کھیل پر فوکس ؟ یہ تو مت ہی پوچھیں ؟ نیٹ پر چند منٹ وقت گزار کر ویڈیو سوشل میڈیا پر ایسے چڑھاتے ہیں، جیسے ان سے بڑا کوئی سورما نہیں۔
گراؤنڈ میں ٹریننگ کرنے کے بجائے ،جم میں چند منٹ گزار کر ورزش کم اور ویڈیوز زیادہ بناتے ہیں۔
اتنی ساری خرابیاں؟ سوال یہ ہے کہ اب چیزیں ٹھیک کیسے ہونگی؟ کرکٹ بورڈ! جی ! پاکستان کرکٹ بورڈ کو معاملات اب پیشہ ورانہ انداز میں دیکھنے ہونگے؟ کیا مطلب سوال یہ ہے؟ کیا ابھی ایسا نہیں ہوتا؟ جی بالکل بھی نہیں! احتساب کا عمل “ صفر”۔
اگر کرکٹ بورڈ کو معاملات ایسے چلانے ہیں تو پھر پیچھے آنے والے نوجوان کرکٹرز بھی موجودہ کرکٹرز کی تقلید میں کچھ کم نہیں ہیں کیونکہ ایک پرفارمنس پر ہمارے ملک میں “ ہیرو” بنانے کا کلچر چل پڑا ہے۔ ایک جیت پر صفر سے وزیر اعظم اور اعلیٰ شخصیات مبارکباد کے پیغامات کی بھرمار کر دیتے ہیں۔ ایسے تو معاملات ٹھیک نہیں ہونگے۔
جی سیدھا راستہ ہے، ہمارے کھلاڑی کھیل میں نام بنائیں ، بورڈ اس بات کو یقینی بنائے۔ سب سے پہلے کھیل ہے۔ ورنہ سابق ٹیسٹ کپتان شاہد خان آفریدی نے چند سال پہلے BBC کو انٹرویو دیتے ہوئے ،درست ہی کہا تھا۔ پاکستان کرکٹ میں ٹیلنٹ ’Sorry no telent‘۔
جیو نیوز، جنگ گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔


























Leave a Reply