امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ مشرقِ وسطیٰ میں دوسرا طیارہ بردار بحری جہاز بھیجنے پر غور کر رہے ہیں۔
ٹرمپ کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران ایک نئے تنازع کو روکنے کے لیے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔
گزشتہ ہفتے عمان کی ثالثی میں ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کا دور ہوا تھا جس کے بارے میں ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ اس سے ایران کو امریکا کی سنجیدگی جانچنے کا موقع ملا اور سفارتکاری کے تسلسل کے لیے ہم آہنگی سامنے آئی۔
یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہوئے جب ٹرمپ انتظامیہ پہلے ہی ایک طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن خطے میں تعینات کر چکی تھی جس سے نئے فوجی اقدام کے خدشات پیدا ہو گئے تھے۔
اسرائیلی میڈیا کو دیے گئے انٹرویوز میں ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایران کے ساتھ معاہدہ طے نہ پایا تو امریکا کو ’انتہائی سخت اقدام‘ کرنا پڑے گا۔ اسرائیل کے چینل 12 کے مطابق ٹرمپ نے کہا کہ ’یا تو ہم معاہدہ کریں گے یا پھر ہمیں بہت سخت قدم اٹھانا ہوگا‘۔
ٹرمپ نے چینل 12 اور امریکی ویب سائٹ ایکسیوس کو بتایا کہ وہ مشرقِ وسطیٰ میں دوسرا طیارہ بردار بحری جہاز بھیجنے پر بھی غور کر رہے ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق ایشیا میں موجود یو ایس ایس جارج واشنگٹن اور امریکا کے مشرقی ساحل پر موجود یو ایس ایس جارج ایچ ڈبلیو بش طیارہ بردار جہاز اس حوالے سے ممکنہ امیدوار ہیں تاہم دونوں کو مشرقِ وسطیٰ پہنچنے میں کم از کم ایک ہفتہ لگ سکتا ہے۔
پینٹاگون کی جانب سے کیریبین میں موجود یو ایس ایس جیرالڈ فورڈ طیارہ بردار جہاز کی تعیناتی کا بھی امکان ہے۔


























Leave a Reply