حال ہی میں میں نے مریم نواز صاحبہ کے بیٹے کی شادی کے حوالے سے جو کالم بعنوان ”مریم نے موقع ضائع کر دیا“ لکھا اُس سے ن لیگی سوشل میڈیا میں مجھے بُرا بھلا کہا گیا۔ ن لیگی سابق ممبر قومی اسمبلی اور مریم نواز صاحبہ کے بیٹے کے سسر کے والد شیخ روحیل اصغر صاحب نے تو سادگی سے شادی کرنے کی میری رائے کا ذکر کرتے ہوے مجھے Sadist (یعنی اذیت پسند یا دوسروں کو تکلیف پہنچا کر خوشی محسوس کرنے والا شخص) قرار دے دیا۔
میرے کالم میں نہ کوئی بدتمیزی تھی نہ کسی پر کوئی الزام لگایا گیا۔ میں نے تو صرف اس شادی کے حوالے سے ایک اہم معاشرتی پہلو پر اپنی رائے کا اظہار کیا۔ یعنی روحیل اصغر کی رائے سے میری رائے اگر مختلف ہے تو پھر مجھے ایک Sadist قرار دے دیا جائیگا۔ گویا مجھے تہذیب کے دائرے میں رہ کر بھی اپنی رائے رکھنے کا حق حاصل نہیں۔
اب آگے چلیے۔ چند دن پہلے ڈیووس میں وزیرِاعظم شہباز شریف اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مختصر ملاقات جو بظاہر چند لمحوں پر مشتمل تھی، مگر ان لمحوں نے بہت سے لوگوں کے ذہنوں میں کچھ اہم سوال پیدا کر دیے۔ عالمی ٹی وی چینلز نے دونوں رہنماؤں کو وہاں موجود ایک شخصیت کی جانب اشارہ کرتے دکھایا، مگر اس لمحے میں ہونیوالی گفتگو کے بارے میں نہ کوئی سرکاری اعلامیہ سامنے آیا اور نہ ہی کوئی باضابطہ وضاحت۔ ایک عام فرد کیلئے ایسے مواقع پر سب سے آسان راستہ قیاس آرائی ہوتا ہے، مگر صحافت قیاس نہیں بلکہ تصدیق مانگتی ہے۔ اسی اصول کے تحت میں نے وزیرِاعظم شہباز شریف سے براہِ راست رابطہ کیا اور ان سے پوچھا کہ اس لمحے میں دراصل کیا بات ہوئی تھی۔ وزیرِاعظم نے خود بتایا کہ صدر ٹرمپ نے ان سے سوال کیا:
How is my favourite Field Marshal ??
اور انہوں نے جواب میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی جانب اشارہ کیا جو تقریب میں اگلی صف میں موجود تھے۔ اُن کے اشارہ کرنے پر صدر ٹرمپ نے بھی آرمی چیف کی طرف مسکرا کر اشارہ کیا۔ جو میں نے لکھا وہ کوئی سیاسی تشریح نہیں تھی، کوئی مفروضہ نہیں تھا بلکہ وزیرِاعظم پاکستان کی اپنی بیان کردہ بات تھی، جسے خبر بننا ہی تھا۔ مگر پاکستان میں اصل مسئلہ خبر نہیں، مسئلہ یہ ہے کہ اب خبر کو خبر کے طور پر پڑھنے کی روایت بھی ختم ہوتی جا رہی ہے۔ یہ خبر تحریک انصاف کے سوشل میڈیا کو ناگوار گزری۔تحریک انصاف کے اکثر ووٹرز سپوٹرزکی اب ذہنی کیفیت ایسی بن چکی کہ وہ ہر خبر کو اپنی پسند و ناپسند کے آئینے میں دیکھتے ہیں۔ جو خبر ان کے بیانیے کے مطابق ہو وہ سچ، اور جو اس سے مختلف ہو اُس پر خبر دینے والے کی ایسی تیسی کر دی جاتی ہے۔ اسی سوچ کے تحت سوشل میڈیا پر گالم گلوچ مہم شروع ہوئی۔ میرے خلاف بدتمیزی، کردار کشی اور الزامات کا طوفان برپا کیا گیا جیسے کہ خبرمیں نے خود گھڑ لی ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ میں نے ایک لفظ بھی اپنی طرف سے شامل نہیں کیا۔
اب اس گالم گلوچ بریگیڈ کی خوشی کے لیے میں یہ کہانی تو نہیں گھڑ سکتا کہ صدر ٹرمپ دراصل عمران خان کے بارے میں پوچھ رہے تھے۔ سوال یہ ہے کہ اگر وزیرِاعظم نے یہ بات نہیں کہی، اگر وہاں موجود کسی سفارتی ذریعے نے ایسی اطلاع نہیں دی، اور اگر کسی سرکاری فورم پر اس کا ذکر موجود نہیں، تو ایک صحافی یہ بات کیسے لکھ دے؟ یہ مسئلہ صرف اس خبر تک محدود نہیں۔ گزشتہ کچھ عرصے کے دوران میں نے مختلف مواقع پر اپنے حکومتی ذرائع اور عسکری اسٹیبلشمنٹ میں موجود ذمہ دار ذرائع سے بار بار تصدیق کی کہ وزیرِاعظم شہباز شریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے درمیان تعلقات کیسے ہیں۔
ہر سطح سے یہی اطلاع ملی کہ دونوں کے درمیان ورکنگ ریلیشن شپ نہ صرف بہترین ہے بلکہ مکمل ہم آہنگی کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔ کسی قسم کی کشیدگی، اختلاف یا ٹکراؤ کی کوئی اطلاع موجود نہیں۔ مگر جیسے ہی اس حقیقت کو رپورٹ کیا جاتا ہے، فوراً اعتراض شروع ہو جاتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ ایک صحافی کیا کرے؟ کیا وہ یہ لکھ دے کہ دونوں کے درمیان اختلافات ہیں، محض اس لیے کہ ایک طبقہ یہی پڑھنا چاہتا ہے؟ کیا وہ ذرائع کے نام پر ایسی خبریں گھڑ دے جن سے سنسنی پیدا ہو، ٹی وی ٹاک شوز میں بحث چلے اور سوشل میڈیا پر تالیاں بجیں؟ کیا میں یہ خبر بنا دوں کہ وزیرِاعظم اور آرمی چیف کے درمیان دراڑ ہے اور حکومت جانے والی ہے صرف اس لیے کہ اس سے ایک طبقہ کو وقتی تسکین مل جائے؟ اگر میرے پاس ایسی کوئی مصدقہ اطلاع موجود نہیں، تو میں یہ کیسے لکھ سکتا ہوں؟ صحافت خواہشات کی غلام نہیں ہوتی۔
صحافت اس بنیاد پر نہیں چلتی کہ لوگ کیا سننا چاہتے ہیں۔ بدقسمتی یہ ہے کہ آج پاکستان میں خبر کو سچ اور جھوٹ کے پیمانے پر نہیں بلکہ سیاسی پسند کے ترازو میں تولا جاتا ہے۔ جو خبر دل کو بھا جائے وہ درست، اور جو ناگوار گزرے وہ فوراً جھوٹ بن جاتی ہے۔ یہ رویہ صحافت کیلئے نہیں، پورے معاشرے کیلئے خطرناک ہے۔ کیونکہ جب فیکٹس کو رد کر دیا جائے تو پھر افواہ خبر بن جاتی ہے، اور شور دلیل کی جگہ لے لیتا ہے۔ میرا کام صرف یہ ہے کہ جو اطلاع مستند ذرائع سے ملے، وہی قارئین تک پہنچائی جائے۔ اگر حقیقت تلخ ہے تو بھی، اور اگر حقیقت خوشگوار ہے تو بھی۔ اگر صحافی یہ سوچنے لگے کہ’’یہ لکھوں گا تو لوگ ناراض ہو جائیں گے‘‘، تو پھر صحافت ختم ہو جاتی ہے۔ اور اگر وہ یہ سوچنے لگے کہ’’ لکھنا چاہیے کیونکہ لوگ یہی پڑھنا چاہتے ہیں‘‘، تو پھر بھی سچ دفن ہو جاتا ہے۔ اب کوئی یہ سننا چاہے کہ پاکستان کی معیشت تباہ ہو چکی اور ملک ڈیفالٹ کے دہانے پر پہنچ چکا، یا یہ کہ پاکستان میں انقلاب آیا چاہتا ہے یا یہ کہ بھارت نے گزشتہ سال پاکستان کو جنگ میں شکست دی تو یہ جھوٹ دوسروں کو خوش کرنےکیلئے میں نہیں لکھ سکتا۔
جیو نیوز، جنگ گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔


























Leave a Reply