امریکی ریاست الی نوائے سے ڈی پورٹ آصف امین چیمہ کی بیٹیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے والد امریکا میں قانونی طور پر مقیم تھے اور انہیں جبری پاکستان بھیجنا منصفانہ عمل نہیں۔ آنکھوں میں آنسو لیے بیٹیوں کا مطالبہ ہےکہ والد کو واپس امریکا آنے کی اجازت دی جائے۔
شکاگو کے علاقے ہمبولٹ پارک میں ریستوران کے مالک آصف امین کی بیٹیوں کا دعویٰ ہے کہ ان کے والد کو ستمبر میں اس وقت آئس نے گرفتار کرلیا تھا جب وہ اپنے کام پر جا رہے تھے۔
بیٹیوں کا دعویٰ ہے کہ ان کےوالد کے پاس ورک پرمٹ موجود تھا اور ان کا گرین کارڈ لینے سے متعلق انٹرویو ہونے ہی والا تھا۔
آصف امین کو نومبر میں ڈی پورٹ کیا جانا تھا مگر فلائٹ پر سوار کیے جانے سے کچھ لمحے پہلے انہیں سینے میں شدید درد کی وجہ سے اسپتال داخل کرنا پڑا تھا۔
اپیلز کورٹ نے آصف امین کو امریکا میں رہنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا جس پرآصف امین کو یکم جنوری کو پاکستان ڈی پورٹ کر دیا گیا تھا۔
چیمہ نےدعویٰ کیا کہ گرفتاری کے دوران انہیں دوا تک نہیں دی گئی۔ وہ دل کے عارضے میں مبتلا ہیں اورانہیں علم نہیں کہ وہ کب خاندان سے دوبارہ مل سکیں گے۔
آصف کی بیٹیوں نے سوال اٹھایا کہ آخر 1990 کی دہائی کے ڈی پورٹیشن حکم نامے پر اچانک اب کیسے عمل کردیا گیا۔ایک اٹارنی نے ان کے امیگریشن اسٹیٹس کو تبدیل کرنے میں معاونت کی تھی مگر انہیں علم نہیں کہ عشروں پرانا ڈیپورٹیشن حکمنامہ بھی والد کے خلاف موجود تھا۔
آنکھوں میں آنسو لیے بیٹی ربیعہ امین نے انتہائی جذباتی انداز سے کہا کہ خاندان ہر چیز قانون کے مطابق کر رہا تھا مگر ان کے والد کے ساتھ ایسا عمل کیا گیا۔ ان کےوالد اپنے بچوں کو اعلی مستقبل دلوانے کیلئے جو خواب امریکا لے کر آئے تھے، وہ ایسے چکنا چور ہوں گے انہیں اندازہ تک نہ تھا۔
آصف امین کے اہل خانہ کو توقع ہے کہ جج آگے بڑھ کر کیس کا ازسرنوجائزہ لیں گےتاکہ بچھڑا خاندان پھر سے ایک ساتھ امریکا میں رہ سکے۔


























Leave a Reply