آبنائے ہرمز کھلوانے میں مدد نہ ملنے پر امریکی صدر دنیا سے ناراض ہوگئے، کسی کو طعنہ دیا تو کسی کو دھمکی دی۔
اوول آفس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم نیٹوکےلیےموجودرہے، جب ہمیں ضرورت پڑی تو وہ موجود نہیں تھا، ہم نےنیٹوکےدفاع پر اربوں ڈالرخرچ کیے لیکن ہمارے دفاع کےلیے وہ موجودنہیں۔
ٹرمپ نے شکوہ کیا کہ ہم 40 سال سے آپ کی حفاظت کر رہے ہیں، اور آپ اس جنگ میں شامل نہیں ہونا چاہتے؟ کچھ ممالک آبنائے ہرمز میں مدد کے لیے پُرجوش نہیں،، ان میں وہ ممالک بھی شامل ہیں جن کی ہم نے کئی کئی برسوں تک مدد کی ہے، ہم نے انھیں خوف ناک بیرونی خطرات سے بچایا ہے، اور وہ اتنے پُرجوش نہیں۔
صدر ٹرمپ بولے برطانوی وزیراعظم نے انہیں مایوس کیا، جنگ جیتنےکےبعداسٹارمرنےجنگی طیارےبھیجنےکااعلان کیا، برطانوی وزیراعظم کوبتایا کہ جنگ جیتنے کے بعد آپ کے طیارہ بردار جہاز وں کی ضرورت نہیں۔
ٹرمپ نے کہا امریکا نے ایرانی رجیم کا خاتمہ کر دیا ہے، آبنائے ہُرمُز میں بارودی سرنگیں بچھانے والی کشتیاں ڈبو دی ہیں، ایران کا بحری اور فضائی دفاع مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے، جن ملکوں کا تیل آبنائے ہُرمُز سے جاتا ہے وہ اب آگے آئیں۔
امریکی صدر نےکہا ایران میں مذاکرات کےقابل کوئی قیادت موجود ہی نہیں، میرے خیال میں ایران کے نئےسپریم لیڈر بھی زندہ نہیں ہیں، انہوں نے دعویٰ کیاکہ پچھلی قیادت امریکی عوام کے ساتھ فراڈ میں ملوث تھی۔
صدر ٹرمپ بولے پرتشدد لوگوں کے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہییں، ایران کے پاس ایٹمی بم ہوتا تو وہ ہمارے خلاف استعمال کرتا، ایران اپنے پڑوسیوں پر میزائل حملے کررہا ہے، ایرانی تباہی کرنے مشرق وسطیٰ کی قیادت کرنا چاہتا ہے۔
صحافی نے سوال کیا کہ کیا جنگ اس ہفتےختم ہوجائےگی؟ جس پر ٹرمپ نے جواب دیاکہ ابھی کچھ نہیں بتا سکتالیکن جنگ جلد ختم ہوجائےگی۔
امریکی صدر نے کہا چین کا دورہ کرنا چاہتاہوں لیکن مجھے امریکا میں موجود رہناپڑےگا، ہم نے درخواست کی ہے کہ چین کا دورہ ایک ماہ کےلیے ملتوی کریں۔


























Leave a Reply