اگر آپ میٹھے مشروبات جیسے سافٹ ڈرنکس پینا پسند کرتے ہیں تو یہ عادت ایک عام دماغی عارضے کا شکار بناسکتی ہے۔
جرنل آف ہیومین نیوٹریشن اینڈ ڈائیٹیٹکس میں شائع تحقیق میں بتایا گیا کہ چینی سے بنے مشروبات کے زیادہ استعمال اور نوجوانوں میں انزائٹی کی علامات کے درمیان تعلق موجود ہے۔
اس تحقیق میں میٹھے مشروبات کے استعمال اور نوجوانوں کی دماغی صحت کے درمیان تعلق پر ہرنے والی تحقیقی رپورٹس کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا۔
تحقیق میں بتایا گیا کہ انزائٹی ڈس آرڈر نوجوانوں میں عام ترین دماغی عارضہ ہے۔
تحقیق میں دیکھا گیا کہ میٹھے مشروبات کیسے دماغی صحت پر اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
تحقیق کے درمیان زیادہ مقدار میں میٹھے مشروبات کے استعمال اور انزائٹی کے درمیان تعلق کو دریافت کیا گیا۔
محققین نے بتایا کہ موجودہ عہد میں نوجوانوں میں میٹھے مشروبات کا استعمال بڑھ رہا ہے جس سے موٹاپے اور ذیابیطس ٹائپ 2 جیسے امراض کا خطرہ بڑھتا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ مگر ان مشروبات سے دماغی صحت پر مرتب اثرات کو جاننے کے لیے زیادہ کام نہیں ہوا۔
انہوں نے تسلیم کیا کہ تحقیق کے نتائج کو ٹھوس قرار نہیں دیا جاسکتا کیونکہ اس کے لیے تحقیقی رپورٹس کے ڈیٹا پر انحصار کیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ بھی ممکن ہے کہ انزائٹی کی علامات نوجوانوں کو میٹھے مشروبات کی جانب لے جاتی ہوں یا کوئی اور بھی عام عنصر اس کی وجہ ہوسکتا ہے۔
مگر انہوں نے کہا کہ اگرچہ ابھی ہم مکمل طور پر تو نتائج کی تصدیق نہیں کرسکتے مگر میٹھے مشروبات کے استعمال اور انزائٹی کے درمیان تعلق ضرور نظر آتا ہے۔
محققین کے مطابق موجودہ عہد میں نوجوانوں میں انزائٹی ڈس آرڈر بہت تیزی سے عام ہو رہا ہے تو ضروری ہے کہ طرز زندگی کی ان عادات کی شناخت کی جائے جو اس کا خطرہ بڑھاتی ہیں۔
واضح رہے کہ انزائٹی بنیادی طور پر شدید گھبراہٹ، فکرمندی، پریشانی اور ڈر کو کہا جاتا ہے۔
معمولی گھبراہٹ یا ڈر تو نقصان دہ نہیں ہوتا مگر جب کیفیات کی شدت زیادہ ہو اور اکثر ایسا ہو تو پھر ضرور اس کی روک تھام کے لیے کوششیں کرنی چاہیے۔
انزائٹی پر توجہ نہ دی جائے تو معیار زندگی بہت بری طرح متاثر ہوسکتا ہے۔


























Leave a Reply