نوبیل انعام یافتہ پاکستانی ملالہ یوسفزئی نے ایک اور پروقار اعزاز اپنے نام کرلیا۔
آکسفورڈ یونیورسٹی کے لیڈی مارگریٹ ہال میں سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کے بعد ملالہ یوسفزئی کی تصویر بھی آویزاں کردی گئی ہے۔
ملالہ کی تصویر لیڈی مارگریٹ ہال میں لگانے کے حوالے سے خصوصی تقریب کا اہتمام کیا گیا جس میں ماہرین تعلیم کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔
اس حوالے سے جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے ملالہ یوسفزئی نے کہا کہ تمام ممالک کو طالبان پر دباؤ ڈالنا چاہیے اور ان کے ساتھ معمول کے تعلقات نہیں رکھنے چاہیں۔
ملالہ نے کہا کہ طالبان اپنے ملک کے آدھے حصے کو دبا رہے ہیں، وہ لڑکیوں اور خواتین کو ان کے حقوق سے محروم کر رہے ہیں، تمام ممالک انسانی حقوق کی بنیاد پر آگے آئیں اور مسلم ممالک کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ طالبان کی غیر اسلامی اقدامات کی مذمت کریں۔
انہوں نے مزید کہا کہ طالبان اپنے دین کو سمجھیں، علم حاصل کرنا دین کا حصہ ہے اور اب وہ کسی بھی بچی کو دین کے نام پر تعلیم سے محروم نہیں کرسکتے، افغانستان میں لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی کے حوالے سے بہت ہی خطرناک وقت ہے، طالبان لڑکیوں سے تعلیم کا بنیادی حق چھین رہے ہیں اور لڑکیاں وہاں اسکول نہیں جاسکتیں۔
ملالہ کا کہنا تھا طالبان کا لڑکیوں کو تعلیم کے حصول سے روکنا اسلام کے پیغام کے خلاف ہے، طالبان خواتین کو گھر سے باہر جانے اور کام کرنے نہیں دے رہے، وہاں بچوں کا مستقبل تاریک نظر آتا ہے، افغان خواتین اور لڑکیاں ہمت نہیں ہار رہیں وہ اب بھی خفیہ اسکولوں میں اور آن لائن تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔
ملالہ یوسفزائی نے یہ بھی کہا کہ میں افغان لڑکیوں کے ساتھ کھڑی ہوں اور ان کے پروجیکٹ کو سپورٹ کر رہی ہوں، پاکستانی افغانیوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کریں اور طالبان کے اقدامات کی مذمت کریں، بے نظیر بھٹو نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر کی خواتین کیلئے “انسپریشن” ہیں۔
اس حوالے سے پورٹریٹ اسپانسر حامد اسماعیل نے کہا کہ انتہائی پروقار یونیورسٹی میں ملالہ کا پورٹریٹ لگنا صرف ملالہ کیلئے نہیں بلکہ پاکستان کیلئے اعزاز ہے، پورٹریٹ کی اسپانسرشپ کیلئے مجھے منتخب کرنا میرے لیے بھی اعزاز ہے۔
اس موقع پر ملالہ کے والد ضیا الدین یوسفزئی نے کہا کہ شکر اور فخر ہے کہ بے نظیر کے بعد لڑکیوں کی تعلیم کیلئے خدمات پر ملالہ کی تصویر آکسفورڈ یونیورسٹی میں لگی ہے جب کہ ملالہ کی والدہ نے کہا کہ ملالہ کی تصویر لگنے پر بہت خوش ہوں اور فخر ہے، اللہ تعالی نے اسے نئی زندگی دی تھی۔

























Leave a Reply