2018 ءکی ایک گرم صبح تھی، اسلام آباد میں سورج معمول سے کچھ زیادہ ہی تیز تھا، مگر اصل حدت موسم کی نہیں تھی، فضا میں سیاست کا تناؤ، الزام کی گرد اور ایک ایسے شخص کی پیشی کا بوجھ شامل تھا جو تین مرتبہ اس ملک کا منتخب وزیراعظم رہ چکا تھا۔
میں اس صبح اسلام آباد میں موجود تھا اور نواز شریف کے جانثار ساتھی ملک نور اعوان کے ساتھ احتساب عدالت پہنچا تھا، نواز شریف کی پیشی تھی، وقت آٹھ بجے کا بتایا گیا تھا مگر ہم صبح ساڑھے چھ یا سات بجے ہی عدالت کے باہر پہنچ چکے تھے۔ اس وقت ماحول نسبتاً پرسکون تھا، چند صحافی کیمرے سنبھالے کھڑے تھے، کچھ کارکن خاموشی سے انتظار کر رہے تھے، اور کچھ لوگ ایسے تھے جن کے چہروں پر تجسس بھی تھا اور بے یقینی بھی، رش بڑھنے لگا۔
سینیٹرز، سابق وزراء، ارکان اسمبلی، پارٹی رہنما اور عام شہری عدالت کے باہر جمع ہوتے گئے، ہر طرف سرگوشیاں تھیں، ہر چہرے پر ایک ہی سوال تھا کہ آج کیا ہونے والا ہے ؟
کچھ دیر بعد عدالت کے احاطے میں ایک حرکت سی محسوس ہوئی اور پھر میاں نواز شریف وہاں پہنچ گئے، درمیانہ قد، متوازن جسمانی ساخت، سرخ و سفید رنگت، نفیس لباس اور پُراعتماد چال، نہ کسی جلدی کے آثار، نہ کسی پریشانی کی جھلک، یہ وہ اعتماد تھا جو کسی ملزم کے چہرے پر نہیں ہوتا بلکہ وہ سکون تھا جو ایک ایسے انسان کے اندر ہوتا ہے جسے یقین ہو کہ اس پر لگائے گئے الزامات حقیقت پر مبنی نہیں۔
ان کے ساتھ مریم نواز تھیں، باپ اور بیٹی ایک دوسرے کے لیے ڈھال بنے ہوئے، خاموش مگر مضبوط، اسی لمحے ہماری ملاقات ہوئی، نواز شریف نے گرمجوشی سے مصافحہ کیا، حال احوال پوچھا، یہ چند لمحے کسی عدالت کے باہر ہونے والی رسمی ملاقات نہیں لگ رہے تھے بلکہ ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے وہ ایک سیاسی قیدی نہیں بلکہ ایک مطمئن شہری ہوں جو اپنے ضمیر کے سامنے سرخرو ہے۔
وہ عدالت کے اندر چلے گئے، کچھ دیر بعد وقفہ ہوا اور ایک بار پھر ملاقات کا موقع ملا، انہیں بتایا گیا کہ میں کالم لکھتا ہوں، مسکرا کر کہا کہ وہ میرے کالم پڑھتے ہیں اور جانتے ہیں، یہ محض رسمی جملہ نہیں تھا، لہجے میں خلوص اور اپنائیت صاف جھلک رہی تھی۔
اسی دوران کسی نے کہا کہ آپ کے ساتھ جو زیادتی ہو رہی ہے، اسے بین الاقوامی سطح پر اٹھایا جانا چاہیے، نواز شریف نے فوراً بات کاٹ دی اور کہا کہ نہیں، یہ میرے ملک کا معاملہ ہے، ہم اسے اپنے ملک کے قانون کے مطابق نمٹائیں گے، پاکستان پہلے ہے، یہ جملہ مختصر تھا مگر اس میں پوری سیاسی زندگی اور ایک مکمل ریاستی سوچ سمٹی ہوئی تھی۔
نواز شریف پاکستان کی تاریخ کے وہ واحد وزیراعظم ہیں جنہیں تین مرتبہ اقتدار سے ہٹایا گیا، پہلی مرتبہ انیس سو ترانوے میں بدانتظامی، کرپشن اور اداروں سے محاذ آرائی کے الزامات لگا کر ان کی حکومت برطرف کی گئی، بعد میں سپریم کورٹ نے بحال کیا مگر سیاسی بحران اتنا شدید تھا کہ حکومت کو چلنے نہیں دیا گیا۔
دوسری مرتبہ انیس سو ننانوے میں فوجی سربراہ کو برطرف کرنے اور طیارہ لینڈنگ کے تنازع کو بنیاد بنا کر آئین شکنی اور بغاوت کے الزامات لگے، نتیجہ فوجی قبضہ، قید اور جلاوطنی کی صورت میں نکلا۔
تیسری مرتبہ دو ہزار سترہ میں پاناما پیپرز کے شور میں نہ کرپشن ثابت ہو سکی، نہ دولت کی منتقلی، آخرکار بیٹے سے تنخواہ نہ لینے کو بنیاد بنا کر صادق اور امین نہ ہونے کا فیصلہ آیا اور وزارتِ عظمیٰ چھین لی گئی۔
اس کے بعد عمران خان کا دور آیا، یہ محض سیاسی اختلاف کا دور نہیں تھا بلکہ انتقامی سیاست اور قید و بند کا زمانہ تھا، پوری مسلم لیگ ن کو دیوار سے لگا دیا گیا، نواز شریف، مریم نواز، شہباز شریف اور حمزہ شہباز سمیت پارٹی کی تقریباً پوری مرکزی قیادت جیلوں میں تھی، کوئی دن ایسا نہیں تھا جب کسی رہنما کو عدالتوں میں پیش نہ کیا جا رہا ہو یا کسی کو گرفتار نہ کیا جا رہا ہو۔
اسی دور میں بیگم کلثوم نواز کا انتقال ہوا، شوہر قید میں، بیٹی عدالتوں میں اور سارا خاندان شدید اذیت کے عالم میں مگر اس سب کے باوجود نواز شریف کے لبوں پر ملک کے خلاف ایک لفظ تک نہ آیا۔
نہ ریاست پر حملہ، نہ اداروں کے لیے تلخ جملہ انہوں نے ہر آزمائش میں خود کو قانون کے سامنے پیش کیا، عدالتوں میں حاضر ہوتے رہے اور سو سے زائد پیشیاں بھگتیں۔ یہ وہ صبر تھا جو سیاست میں کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔
وقت بدلا، حالات نے کروٹ لی، سیاست کے موسم بدلتے رہے مگر نواز شریف کا طرزِ سیاست آہستہ آہستہ ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گیا، آج وہ اس مقام پر ہیں کہ اگر چاہتے تو خود وزیراعظم بنا سکتے تھے، مگر انہوں نے اقتدار کو انا پر ترجیح نہیں دی۔
انہوں نے شہباز شریف کو وفاق کی ذمہ داری دی اور مریم نواز کو پنجاب کی قیادت سونپی، آج پنجاب میں تیز رفتار ترقی، انتظامی بہتری، فیصلوں کی رفتار اور عوامی فلاح کے منصوبوں میں نواز شریف کا وژن صاف جھلکتا ہے۔
وفاق میں استحکام نظر آتا ہے اور صوبے میں رفتار، اور پس منظر میں ایک تجربہ کار سیاستدان جو سامنے آئے بغیر رہنمائی کر رہا ہے، مشورے دے رہا ہے اور توازن قائم رکھے ہوئے ہے، نواز شریف کی سیاست پر اختلاف ہو سکتا ہے، تنقید بھی مگر یہ حقیقت نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ وہ ہر بار ہٹائے گئے مگر ٹوٹے نہیں، الزامات لگے مگر ملک کے خلاف نہ گئے۔
آج پس منظر میں رہتے ہوئے ان کا وژن اور ان کی سیاسی حکمت عملی نہ صرف موجودہ حکومت کو اپنا آئینی دور مکمل کرنے میں مدد دے سکتی ہے بلکہ اگر اسی سوچ کو تسلسل ملا تو پاکستان ترقی پذیری سے نکل کر ترقی یافتہ ملک بھی بن سکتا ہے۔
جیو نیوز، جنگ گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔


























Leave a Reply