لاہور: پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے کہا ہےکہ میرے پاس الفاظ نہیں کہ بتا سکوں وزیراعلیٰ مریم نواز بھاٹی گیٹ واقعے پرکتنی غمزدہ تھیں۔
ایک بیان میں عظمیٰ بخاری نے کہاکہ بھاٹی گیٹ پر واقعے سے متعلق پہلی اطلاع ریسکیو 1122 نے دی ، بچی کے والد کا پولیس سے رابطہ ہوا، پولیس بچی کے والد کو تھانے لے گئی۔
وزیراطلاعات کے مطابق خاتون کے والد نے بتایا کہ بیٹی کا اپنے شوہرکے ساتھ جھگڑا ہوا تھا، اس لیے پولیس بچی کے والد کو لےگئی، پولیس کو لگا ہوگا کہ شاید شوہر اس معاملے میں ملوث ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جس شخص کی بیوی اور بچی گرگئی، اطلاعات ہیں کہ پولیس نے اس کے ساتھ غلط رویہ رکھا، اس پر بھی تحقیقات ہوں گی، جو بھی ملوث پایا گیا اس کیخلاف کارروائی ہوگی ۔
عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ پنجاب بہت تکلیف میں ہیں، میں بتا نہیں سکتی وہ کتنےدکھ میں ہیں، وزیراعلیٰ پنجاب ایک ایک لمحےکے واقعے کی رپورٹ لے رہی تھیں، انکوائری کے لیے 48گھنٹے کی مہلت دی گئی ہے۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ پنجاب حکومت جلد بلدیاتی انتخابات چاہتی ہے، بلدیاتی انتخابات کے لیے قانون بننے میں وقت لگا، پنجاب میں حلقہ بندیوں میں بھی وقت لگ رہاہے، حکومت بلدیاتی انتخابات کے لیے تیار ہے۔
یاد رہے کہ ایک روز قبل لاہور کے علاقے بھاٹی گیٹ میں داتا دربار کے قریب ایک خاتون اور اس کی بچی سیوریج لائن میں گر کر جاں بحق ہو گئی تھی تاہم ابتدائی طور پر پولیس اور دیگر متعلقہ ادارے اس خبر کو غلط قرار دیتے رہے اور کہا کہ ایسا کوئی واقعہ پیش ہی نہیں آیا لیکن تقریباً 10 گھنٹے بعد خاتون اور اس کی بچی کی لاشیں 3 کلومیٹر دور سے برآمد ہوئیں۔


























Leave a Reply