پاکستان کی نامور سابقہ سپر ماڈل ونیزہ احمد نے بیٹیوں اور بیٹوں کی پیدائش پر دقیانوسی سوچ کے خلاف آواز اٹھائی ہے۔
ایک تقریب میں گفتگو کرتے ہوئے ونیزہ احمد نے کہا کہ ‘میرے والد بہت پڑھے لکھے شخص تھے لیکن اس کے باوجود مجھے نظر آتا تھا کہ ان کے دل میں ہے انہیں اپنی پہلی اولاد بیٹا چاہیے تھا’۔
سابقہ ماڈل نے کہا ‘اب آج کے دور میں یہ سوچ بدل رہی ہےکیونکہ اب خواتین کو اپنی قدر آگئی ہے، اب لوگوں کو یہ احساس ہوگیا ہے کہ ہر کوئی اپنی قسمت لے کر آتا ہے، اپنا سفر وہ خود لکھتا ہے، اپنی کہانی خود تخلیق کرتا ہے’۔
ونیزہ احمد کا کہنا تھا کہ ‘یہ اب پرانی باتیں ہوگئی ہیں کہ ہم ایسے پیدا ہوئے تھے یا ماں باپ کے پاس اتنا پیسہ نہیں تھا، ہمارے اماں ابا ایسے تھے، نہیں! ‘
انہوں نےمزید کہا کہ ‘ہم کریئٹرز ہیں، خاص طور پر جو عورتیں ہیں وہ اتنی امیزنگ ہیں کہ یہ لمیٹڈ چیز کہ میں یہ نہیں کرسکتی، لمیٹڈ سوچ کہ میں یہ نہیں کرسکتی، میں یہ بدلنا چاہتی ہوں’۔


























Leave a Reply