بھارتی ریاست اتراکھنڈ میں مسلمان دکان دار کو ہراساں کرنے کے خلاف انتہا پسندوں کے آگے کھڑا ہونے والا ہندو شہری سوشل میڈیا اسٹار بن گیا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق یہ معاملہ 28 جنوری کو پیش آیا تھا جس میں ایک 70 سالہ مسلمان دکاندار وکیل احمد پر بجرنگ دل کے کارندوں نے دباؤ ڈالا کہ وہ اپنی دکان کا نام ’بابا اسکول ڈریس‘ تبدیل کریں۔
رپورٹ کے مطابق متعدد انتہاپسند ہندو دکان کے باہر جمع ہوگئے اور مسلمان بزرگ کو ڈرانا دھمکانا شروع کردیا۔ اس موقع پر جِم کے مالک اور ٹرینر دیپک کمار وہاں پہنچے اور بزرگ دکاندار کے حق میں کھڑے ہوگئے۔
جب دیپک نے بزرگ دکاندار کے حق میں بات کی تو بجرنگ دل کے کارندوں نے ان سے نام پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ میرا نام محمد دیپک ہے اور وہ بزرگ شہری کے حق میں ڈٹ گئے اور انتہا پسندوں کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کردیا۔
انتہاپسندی کےخلاف کھڑے ہونے پر دیپک چند دنوں میں ہی سوشل میڈیا اسٹار بن گئے اور ان کے فالوورز کی تعداد میں لاکھوں میں چلی گئی۔
سوشل میڈیا پر مختلف شخصیات اور تنظیموں نے ان کے جرات مندانہ اقدام کی تعریف کی جب کہ یہ معاملہ پارلیمنٹ میں بھی پہنچ گیا جہاں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی اورکانگریس لیڈر عمران پرتاپ گڑھی نے بھی دیپک کی تعریف کی۔


























Leave a Reply