ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری علی لاریجانی کا کہنا ہےکہ امریکا کے ساتھ مذاکرات کسی حد تک مثبت رہے ہیں، بظاہر امریکا کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیے آمادہ دکھائی دیتا ہے۔
عمان کے دارالحکومت مسقط کے دورے کے موقع پر دیےگئے بیان میں علی لاریجانی کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال کی بنیاد پر حتمی رائے قائم نہیں کی جاسکتی، آئندہ مراحل پر گہری نظر رکھنا ضروری ہے۔
خبر ایجنسی کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان بالواسطہ جوہری مذاکرات کے اگلے دور کی تاریخ طے کرنے کے لیے مشاورت جاری ہے۔
دوسری جانب ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے کہا ہےکہ امریکا اور ایران جوہری معاہدےکے حوالے سے لچک دکھا رہے ہیں اور کسی سمجھوتے تک پہنچنے کے لیے تیار نظر آتے ہیں۔
برطانوی اخبارکوانٹرویو میں انہوں نے کہا کہ یہ مثبت پیش رفت ہےکہ امریکا واضح حدود کے اندر ایران کو یورینیئم افزودگی کی اجازت دینے پر آمادہ دکھائی دیتا ہے۔
حاقان فیدان نے خبردار کیا کہ اگر امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا دائرہ ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام تک بڑھایا گیا تو اس کا نتیجہ ایک اور جنگ کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔


























Leave a Reply