محکمہ محنت سندھ کے ورکرز ویلفیئر بورڈ میں اربوں روپے کی بے قاعدگیوں کا انکشاف


محکمہ محنت سندھ کے ورکرز ویلفیئر بورڈ میں اربوں روپے کی بے قاعدگیوں کا انکشاف

3 ارب کی ای بائیکس کی خریداری، 80کروڑ کے دفتر اور35کروڑ کی ڈیجیٹلائزیشن کی منظوری کیسے لی گئی؟ ادارے کے ممبران نے وزیر محنت کو خط لکھ کر اعتراضات اٹھادیے— فوٹو:فائل

محکمہ محنت سندھ کے ورکرز ویلفیئر بورڈ میں اربوں روپے کی بے قاعدگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔

ورکرز ویلفیئر بورڈ سندھ کے ممبران نے 3 اور 11 مارچ 2025 کو وزیر محنت سندھ کو خطوط لکھ کر اربوں روپے کی بے قاعدگیوں پر اعتراضات اٹھائے۔ 

ممبران نے نشاندہی کی کہ 10 ہزار ای بائیکس کیلئے 3 ارب کے تخمینے کی منظوری نہیں دی گئی، اسی طرح کلفٹن میں پچاس کروڑ مالیت کے دفتر کی 80 کروڑ میں خریداری اور 3 کروڑ سے بڑھاکر 35 کروڑ کے ڈیجیٹلائزیشن بجٹ پر بھی مشاورت نہیں کی گئی۔

مزدور رہنماؤں کے مطابق خریداری سے قبل گورننگ باڈی کی منظوری ضروری ہے مگر اس معاملے میں قواعد کی خلاف ورزی کی گئی۔

ان اعتراضات پر مؤقف لینے کے لیے 29 جولائی سے3 اگست تک محکمہ محنت اور وزارت اطلاعات سندھ سے رابطہ کیا گیا مگر کوئی جواب نہ آیا تاہم محکمہ محنت نے 3 اگست کو ای میل پر سوالنامہ بھیجنے کا کہا لیکن اس کےباوجود جواب نہ ملا۔ 

البتہ 4 اگست کو بورڈ کا اجلاس ہوا اور جاری اعلامیے میں بتایا گیا کہ ہیڈ آفس، ای بائیکس اور ڈیجیٹلائزیشن کی تمام اسکیمز گزشتہ بجٹ میں ہی منظور ہو چکی ہیں لیکن بورڈ ممبران کے اعتراضات کیسے دور کیے گئے؟ اعلامیہ میں یہ واضح نہیں کیا گیا۔

دوسری جانب جیونیوز کی ٹیم ایک بورڈ ممبر کی نشاندہی پر کلفٹن بلاک 1 پہنچی جہاں 80 کروڑ میں خریدے جانے والے دو فلور کی ویلیو پراپرٹی ایجنٹس کے مطابق 50 کروڑ سے زائد نہیں لیکن اس معاملے پر بھی سیکرٹری ورکرز ویلفیئر بورڈ نے کوئی جواب نہ دیا۔

اس دوران بعض بورڈ ممبران مستعفی بھی ہوئے اور حالیہ اجلاس میں کئی ممبران شامل نہ تھے  جبکہ سیکرٹری لیبر کے اضافی چارج پر عدالت میں کیس زیر سماعت ہے۔

محکمہ محنت سندھ نے ای بائیکس، دفتر کی خریداری اور ڈیجیٹلائزیشن کو مزدوروں کی فلاح قرار دیا ہے مگرقانونی نکتہ نظر سے بورڈ ممبران کے اعتراضات اب تک جواب طلب ہیں۔



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *