ڈپریشن موجودہ عہد میں سب سے عام دماغی عارضہ ہے جس کا سامنا ہر عمر کے افراد کو ہوسکتا ہے۔
اب اس کے تیزی سے پھیلاؤ کی ایک اہم وجہ دریافت ہوئی ہے اور وہ ہے زیادہ وقت ٹیلی ویژن (ٹی وی) دیکھتے ہوئے گزارنا۔
یہ بات برطانیہ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔
کیمبرج یونیورسٹی کی تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ ٹی وی کے سامنے کم وقت گزارنے سے ڈپریشن سے متاثر ہونے کا خطرہ گھٹ جاتا ہے، خاص طور پر درمیانی عمر کے افراد میں۔
اس تحقیق میں یہ جاننے کی کوشش کی گئی تھی کہ ٹی وی کے سامنے گزرے جانے والے وقت کو کم کرکے نیند یا ورزش سے بدل دیا جائے تو کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
اس سے قبل تحقیقی رپورٹس میں زیادہ وقت بیٹھ کر گزارنے اور ڈپریشن کے درمیان تعلق کو دریافت کیا گیا تھا۔
اس تحقیق میں 65 ہزار سے زائد افراد کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا جو تحقیق کے آغاز میں ڈپریشن سے محفوظ تھے۔
ان افراد کی مانیٹرنگ 4 سال تک کی گئی اور ہر عمر کے افراد کے گروپس کے ڈیٹا کا موازنہ کیا گیا۔
ان افراد سے معلوم کیا گیا کہ وہ اپنا کتنا وقت وقت باہر گھومنے، ورزش کرنے، کھیل کود، گھریلو کاموں، دفاتر یا اسکول میں جسمانی سرگرمیوں، ٹی وی دیکھنے اور سوتے ہوئے گزارتے ہیں۔
بعد ازاں ان افراد میں ڈپریشن کی تشخیص کے لیے ٹیسٹ کیے گئے۔
تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ روزانہ ٹی وی دیکھنے کے وقت میں 60 منٹ کم کرکے دیگر سرگرمیوں جیسے ورزش یا نیند کے لیے مختص کرنے سے ڈپریشن سے متاثر ہونے کا خطرہ 11 فیصد تک گھٹ جاتا ہے۔
اسی طرح اگر 90 سے 120 منٹ تک کم ٹی وی دیکھا جائے تو یہ خطرہ 25.91 فیصد تک کم ہو جاتا ہے۔
مگر سب سے زیادہ فائدہ درمیانی عمر کے افراد کو ہوتا ہے۔
اس عمر کے افراد اگر روزانہ ایک گھنٹے کم ٹی وی کو دیکھتے ہیں تو ڈپریشن سے متاثر ہونے کا خطرہ 18.78 فیصد تک کم ہو جاتا ہے۔
90 منٹ کم دیکھنے سے 29 جبکہ 2 گھنٹے تک کم ٹی وی دیکھنے سے 43 فیصد تک گھٹ جاتا ہے۔
اس تحقیق کے نتائج جرنل یورپین سائیکاٹری میں شائع ہوئے۔


























Leave a Reply