ایسا کہا جاتا ہے کہ فکرمندی سے جھریاں نمودار ہوتی ہیں مگر ایک نئی تحقیق سے عندیہ ملتا ہے کہ درحقیقت اصل اثر تو زیادہ سنگین ہوتا ہے۔
جرنل Psychoneuroendocrinology میں شائع تحقیق میں بتایا گیا کہ اگر خواتین بڑھتی عمر پر فکرمند ہوتی ہیں تو بڑھاپے کی جانب ان کا سفر تیز ہو جاتا ہے۔
ان کا ڈر خلیاتی تنزلی کا عمل برق رفتار کر دیتا ہے۔
تحقیق کے مطابق خوف یا فکر سے ہمارا جسم تیزی سے بوڑھا ہونے لگتا ہے۔
محققین نے بتایا کہ نتائج سے عندیہ ملتا ہے کہ اگر آپ بڑھتی عمر کے حوالے سے فکرمند ہیں تو یہ عمل آپ کو حقیقی معنوں میں بوڑھا کر دیتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ عمر سے جڑی فکرمندی صرف نفسیاتی اثرات مرتب نہیں کرتی بلکہ جسم پر بھی منفی اثرات مرتب کرتی ہے۔
اس تحقیق میں 726 خواتین کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا تھا۔
اس ڈیٹا کے دوران محققین نے ان خواتین کی حیاتیاتی عمر کا تجزیہ کیا۔
خیال رہے کہ ویسے تو ہر فرد کی عمر کا تعین تاریخ پیدائش (کرانیکل ایج) سے کیا جاتا ہے مگر طبی لحاظ سے ایک حیاتیاتی عمر (بائیولوجیکل ایج) بھی ہوتی ہے جو جسمانی اور ذہنی افعال کی عمر کے مطابق ہوتی ہے۔
جینز، طرز زندگی اور دیگر عناصر اس حیاتیاتی عمر پر اثرات مرتب کرتے ہیں اور یہ عمر جتنی زیادہ ہوگی مختلف امراض کا خطرہ بھی اتنا زیادہ بڑھ جائے گا۔
محققین نے ان خواتین کی حیاتیاتی عمر کا موازنہ کرانیکل ایج سے کیا اور پھر تجزیہ کیا کہ بڑھاپے کی فکرمندی نے ان کی حیاتیاتی عمر کی رفتار پر کیا اثرات مرتب کیے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ درمیانی عمر میں خواتین اپنے معمر رشتے داروں اور ان کی بیماریاں دیکھ کر فکرمند ہو جاتی ہیں کہ ایسا ان کے ساتھ بھی ہوسکتا ہے۔
نتائج سے ثابت ہوا کہ عمر سے جڑی انزائٹی سے بڑھانے کی جانب سفر کی رفتار بھی تیز ہو جاتی ہے۔
اس فکرمندی سے صحت پر بھی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں اور مختلف امراض کا خطرہ بڑھتا ہے۔
محققین کے مطابق نتائج سے ثابت ہوتا ہے کہ جسم اور ذہن آپس میں جڑے ہیں۔
البتہ انہوں نے تسلیم کیا کہ ابھی نتائج کو مکمل طور پر ٹھوس قرار نہیں دیا جاسکتا کیونکہ ممکن ہے کہ کچھ دیر عناصر بھی بڑھاپے کی جانب سفر کی رفتار کو تیز کرتے ہوں۔
انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔


























Leave a Reply