اسلام آباد: قومی اسمبلی کی کابینہ ڈویژن سے متعلق قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں اکثریتی ارکان نے سرکاری افسران کی دہری شہریت کے خلاف ووٹ دے دیا۔
قومی اسمبلی کی کابینہ ڈویژن سے متعلق قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں سول سرونٹس کے لیے دہری شہریت ختم کرنے سے متعلق ایم این اے نور عالم خان کا بل زیر غور آیا۔
نور عالم خان نے کہا کہ دہری شہریت کے حامل افسران کو شرم آنی چاہیے، ایساکرناغداری کے مترادف ہے۔
دہری شہریت کی حامل اسپیشل سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ سارہ سعید نے بتایا کہ میری دہری شہریت ڈیکلیئرڈ ہے۔
نورعالم خان نےکہا کہ آپ کو ایک باربھی نہیں لگاکہ آپ کو دہری شہریت چھوڑنا چاہیے؟ اس پر سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ نے کہا کہ آپ کےدلائل کےساتھ ہوں لیکن جو پیدائشی ہیں ان پر غور کریں۔
نورعالم خان نےکہا کہ پیدائشی دہری شہریت رکھنے والے افسروں کوبھی یہ شہریت چھوڑ دینی چاہیے تاہم کابینہ سیکرٹری کامران علی افضل نے مؤقف اختیار کیا کہ جو افسران پیدائشی طور پر دہری شہریت رکھتے ہیں انہیں رعایت دی جانی چاہیے۔
رکن کمیٹی شاہدہ بیگم نے کہا کہ دہری شہریت پر فیصلہ تمام عہدوں کے لیے ایک ہی ہونا چاہیے، کسی کے لیے الگ قانون نہیں ہونا چاہیے۔
اسپیشل سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ نےکہا کہ اس حوالے سے وزیراعظم کی تشکیل کردہ وفاقی سیکرٹریز کی کمیٹی کوآگاہ کیاگیا ہےکہ پاکستان کے 21 ممالک کے ساتھ معاہدے موجود ہیں جن کے تحت دہری شہریت رکھنے کی اجازت ہے۔
طاہرہ اورنگزیب کا کہنا تھا کہ مریم اورنگزیب کے پاس آسٹریلیا کی شہریت تھی، مریم اورنگزیب نے الیکشن لڑنے کے لیے آسٹریلیا کی شہریت چھوڑی۔
آغارفیع اللہ نےکہا کہ سیاستدان دہری شہریت پر نااہل ہوتو یہ شام تک نوٹیفکیشن نکال دیتے ہیں، ان کے خلاف سپریم کورٹ فیصلہ دے چکی اور یہ کمیٹیوں پہ کمیٹیاں بنا رہے ہیں۔
نورعالم نےکہا کہ انہوں نے اپنا مؤقف دے دیا، ہاؤس کی سینس لے لیں، اگر آپ بیوروکریٹس کو دہری شہریت دے رہے ہیں تو اراکین پارلیمنٹ کو بھی دیں۔
نور عالم نے سرکاری افسران کی دہری شہریت رکھنےکے قانون کے بارے میں ووٹنگ کرائی تو 7 میں سے 6 ارکان نے ہاتھ کھڑے کرکے قانون کی حمایت کردی۔چیئرمین کمیٹی ملک ابرار نے اعلان کیا وہ وزیراعظم سے مشاورت کے بعد 16 فروری کو فیصلے کا اعلان کریں گے۔
سیکرٹری کابینہ کامران علی افضل کا کہنا تھا کہ یہ آپ کا فیصلہ ہے پھر اس میں ججز کو بھی شامل کریں۔
نورعالم خان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے ایک جج نے دہری شہریت پر استعفیٰ دیا۔ چیئرمین کمیٹی ملک ابرار کا کہنا تھا کہ بیوروکریسی اورعدلیہ میں بھی دہری شہریت کے لوگ نہیں ہونے چاہئیں۔

























Leave a Reply