اسلام آباد: جمعیت علماء اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہےکہ غزہ پیس بورڈ میں جانا فقط ٹرمپ کی آشیر باد حاصل کرنا ہے، یہ ایوان منتخب ایوان نہیں مگر پھر بھی کبھی اس ایوان کو اعتماد میں لیا ؟ حکومت کا فرض ہے کہ وہ بتائےکہ کیا فیصلے کر رہی ہے۔
قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ہماری پالیسیاں بین الاقوامی دباؤ کے تحت بنتی ہیں، کبھی ہم نے اپنی خارجہ پالیسی اپنے مفاد کی خاطر نہیں بنائی ، بانی پاکستان نے اسرائیل کے قیام سے متعلق دو تاریخی اقدامات کیے، 1940 کی قرارداد تاسیس پاکستان کی قرارداد کے تحت ہے، 1948 میں جب اسرائیل وجود میں آیا تو اسے بانی پاکستان نے ناجائز قرار دیا، ہم نے کبھی سوچا ہے بانی پاکستان کے فرمودات پر؟ ان پر عمل پیرا ہونا دور کی بات ہے۔
مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ یہ ایوان منتخب ایوان نہیں مگر پھر بھی کبھی اس ایوان کو اعتماد میں لیا ؟ حکومت کا فرض ہےکہ وہ بتائےکہ کیا فیصلے کر رہی ہے؟ آپ ایوان کو اعتماد میں نہیں لے رہے چلیں مت لیں مگرکیا کابینہ کو اعتماد میں لیا؟ جب شملہ معاہدہ بھٹو کرنے جا رہے تھے تو بھرے ایوان کو اعتماد میں لیا گیا، مشاورت اور مفاہمت کی روش اپنائیں تو بہت سارے الجھے مسائل سے نکل سکتے ہیں، ہمارا مستقبل روشن ہوسکتا ہے، مسائل تو بہت ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بورڈ آف پیس اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کے ہوتے ہوئےکیا متوازی حیثیت نہیں رکھتا؟ فلسطینی بہت مجبور حالت میں ہیں مگر پالیسی تو ٹھیک رکھیں، غزہ پیس بورڈ میں جانا فقط ٹرمپ کی آشیر باد حاصل کرنا ہے، اس بورڈ میں پاکستان کی شمولیت انتہائی اہم معاملہ ہے۔
سربراہ جے یو آئی کا کہنا تھا کہ میں جس علاقے میں رہتا ہوں وہاں طالبان کا قبضہ ہے، وہاں زندہ رہنے کے لیے طالبان کو بھتہ دینا ضروری ہے، تمام سرکاری افسران انہیں بھتہ دیتے ہیں، ہم یہاں جو بجٹ پاس کرتے ہیں ان کا 10 فیصد حصہ رکھ کر پاس کرتے ہیں، ہمارا گھر اور بچے بھی علاقے میں محفوظ نہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ نظام جمہور کے تحت جبر کے تحت چلایا جارہا ہے، یہ صرف جعلی نہیں جبری اکثریت تھی، ہم نےکئی سیاہ دن دیکھے ہیں، 8 فروری یوم سیاہ کےطور پر منائیں گے، پاکستان کے ساتھ بہت ظلم کیےگئے ہیں مگر 8 فروری کو انتہا کردی گئی، ہمیں ان قانون سازیوں کو واپس لینا ہوگا، 27 ویں ترمیم میں جو استثنیٰ دی گئی ہیں وہ واپس کرنا ہوں گی۔


























Leave a Reply