ایران کے قومی سلامتی پارلیمانی کمیشن نےکہا ہےکہ سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای پر کوئی بھی حملہ پوری مسلم دنیا کے خلاف اعلان جنگ تصور ہوگا۔
برطانوی خبرایجنسی کے مطابق ایک بیان میں ایران کے قومی سلامتی پارلیمانی کمیشن کا کہنا تھا کہ ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای پر حملہ ہوا تو جہاد کرنےکا فتویٰ جاری کر دیں گے اور پھر دنیا کے تمام حصوں میں اسلام کے سپاہیوں کا ردعمل آئےگا۔
خیال رہےکہ گزشتہ ہفتے اسرائیل کے لیے سابق امریکی سفیر نے دعویٰ کیا تھا کہ صدر ٹرمپ خامنہ ای کو قتل کروانےکی کوشش کرسکتے ہیں۔
سابق امریکی سفیر کا کہنا تھا کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ اب 86 برس کے ہوچکے ہیں اور بیمار اہیں لہٰذا ایران کو اس وقت ایک نئی قیادت کی ضرورت ہے۔
اس کے علاوہ سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر جاری بیان میں سابق امریکی سفیر کا کہنا تھا کہ جلد امریکا کا ایک بڑا بیڑا مشرق وسطیٰ میں موجود ہوگا جو ایران پر حملےکو نہ صرف آسان بنائےگا بلکہ ایران کے جواب کی صورت میں دفاعی تیاریوں میں بھی مدد دے گا۔
سابق امریکی سفیر کا دعویٰ اس وقت سامنے آیا جب ایرانی سپریم لیڈر نے یہ الزام عائد کیا کہ ایران میں تشدد، مظاہروں اور قتل میں امریکی صدر ملوث ہیں۔


























Leave a Reply