ویسے تو بیشتر افراد سائیکل چلانا خود ہی سیکھ لیتے ہیں اور اس کے لیے کسی سے مدد لینا نہیں پڑتی،
مگر جب کوئی فرد سائیکل چلانا سیکھنے کے لیے کسی کی مدد لیتا ہے تو اس کے عوض معاوضہ ادا نہیں کرتا۔
مگر چین میں ماسٹرز کی تعلیم حاصل کرنے والے ایک نوجوان نے 2 سال کے دوران بالغ افراد اور بچوں کو سائیکل چلانے کی تربیت دے کر لاکھوں روپے جمع کرلیے ہیں۔
جی ہاں واقعی لی نامی یہ نوجوان شنگھائی یونیورسٹی آف اسپارٹ میں ماسٹرز ڈگری کے تیسرے سال میں زیرتعلیم ہے۔
اس نے 2 سال کے دوران سائیکل چلانے کی تربیت دے کر 39 ہزار ڈالرز (ایک کروڑ پاکستانی روپے سے زائد) کما لیے ہیں۔
لی نے چینی میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ برسوں پہلے اسے اور اس کے ایک دوست کو احساس ہوا تھا کہ یہاں سائیکل چلانے کی تربیت دینے کی مانگ بہت زیادہ ہے تو اس نے موقع سے فائدہ اٹھانے کا فیصلہ کیا، مگر دوست جلد ہی ملازمت کرنے لگا اور اسے وہ کام روکنا پڑا۔
جب اسے شنگھائی یونیورسٹی میں داخلہ مل گیا تو اس نے پھر فارغ وقت میں سائیکل چلانے کی تربیت دینا شروع کیا۔
اس نے اس حوالے سے سوشل میڈیا پر ویڈیوز پوسٹ کیں اور بتدریج لوگ اس سے رابطہ کرنے لگے۔
لی اپنے صارفین کے گھروں کے قریب سائیکل چلانے کی تربیت دینے جاتا ہے اور 800 یوآن یا 110 ڈالرز کے عوض کامیابی کی ضمانت دیتا ہے، یعنی لوگ اس کورس کے اختتام تک سائیکل چلانے کے قابل ہو جاتے ہیں۔
اس کورس میں بالغ افراد کو 2 بار تربیت دی جاتی ہے اور ہر سیشن کا دورانیہ ڈیڑھ گھنٹے ہوتا ہے۔
بچوں کو زیادہ وقت دیا جاتا ہے۔
لی کے مطابق اب تک وہ 700 افراد کو سائیکل چلانے کی تربیت دے چکا ہے جن کی عمریں 4 سے 68 سال کے درمیان تھیں۔
اس کے زیادہ تر شاگرد 20 سے 30 سال کے درمیان ہوتے ہیں۔
لی نے تسلیم کیا کہ اسے توقع نہیں تھی کہ وہ اس سادہ اور آسان کام سے اتنے پیسے کما لے گا۔
اس نے بتایا کہ بیشتر افراد سائیکل چلانا اس لیے سیکھتے ہیں تاکہ اہنے دفاتر آسانی سے جاسکیں، کچھ کمپنیوں کی جانب سے ایسا ٹیم بلڈنگ سرگرمیوں کے طور پر کیا جاتا ہے۔


























Leave a Reply